بھارت کی سیاست میں گوشت کا بازار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گوشت پر پابندی ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومتیں اور میونسپلٹیاں جین مذہب کے تہوار ’'پریوشن‘ کےمو قع پر عائد کر رہی ہیں

بھارت میں ان دنوں بی جے پی کےاقتدار والی ریاستوں اور میونسپلٹیوں میں گوشت کی فروخت پر پابندی لگانے کی ریس چل رہی ہے۔

سب سے پہلے یہ پابندی مہاراشٹر میں لگائی گئی۔ اس کےبعد راجستھان، چھتیس گڑھ ، گجرات اور پنجاب کے بعض شہروں میں گوشت پر آٹھ دن کے لیے پابندی لگائی گئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بی جے پی کےاقتدار والی دلی کی تین میونسپلٹیوں میں بھی مطالبہ کیا جا رہا ہےکہ یہاں بھی 17 اکتوبر تک گوشت پر پابندی لگائی جائے۔

گوشت پر پابندی ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومتیں اور میونسپلٹیاں جین مذہب کے تہوار ’'پریوشن‘ کےمو قع پر عائد کر رہی ہیں۔

جین مذہب عدم تشدد میں یقین رکھتا ہے اوراس کےمطابق کسی بھی جاندارکو مارنا بہت بڑا گناہ ہے۔ جین مذہب کےپیروکار قطعی طور پرسبزی خور ہوتے ہیں۔ گوشت پر پابندی یہ کہہ کر لگائی جا رہی ہے کہ اس کا مقصد پریوشن کے دوران جین مذہب کے عدم تشدد کی تعلیمات کا احترام کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمہوری ملک میں ہر شہری کھانے پینے، مذہب پرعمل کرنے یا نہ کرنے اور اپنے طور طریقے سےرہنے کے لیے آزاد ہے

گوشت پر پابندی لگائےجانےسے تنازع پیدا ہوگیا ہے ۔ ممبئی مٹن ڈیلرزایسوسی ایشن نےممبئی ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ان کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے فرد کےانتخاب کے بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

بھارت میں گذشتہ کچھ سالوں سے گوشت خوری کے خلاف ہندو پرست تنظمیوں کی مہم میں شدت آئی ہے ۔ گوشت کے خلاف مہم میں ایک دبے ہوئےمذہبی اختلاف کا پہلو بھی شامل ہے ۔ بھارت میں سبزی خوری کی حمایت کرنےوالے عناصر اور پارٹیاں سیاسی جماعتیں عام طور پر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ گوشت خورصرف مسلم ہیں ۔در اصل بھارت کی آبادی کی غالب اکثریت گوشت خور ہے اور ان میں پچاس کروڑ ہندؤ بھی شامل ہیں۔

لیکن دانشوروں کا کہنا ہےکہ گوشت پر پابندی کا سوال نہ گوشت کا ہے اورنہ مذہب کا۔ یہ سوال ہے انتخاب کی آزادی اور بنیادی حقوق کا۔ کسی جمہوری ملک میں یہ ریاست کا کا کام نہیں ہے کہ وہ شہریوں کےلیے یہ طے کرے کہ کون کیا کھائے گا۔ کسی کثیرالمذہبی جمہوری ملک میں کسی ایک مذہب کےتصورات کو کسی درسرے مذہب کے پیروکاروں یا شہریووں پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

جمہوری ملک میں ہر شہری کھانے پینے، مذہب پرعمل کرنے یا نہ کرنے اور اپنے طور طریقے سےرہنے کے لیے آزاد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں گذشتہ کچھ سالوں سے گوشت خوری کے خلاف ہندو پرست تنظمیوں کی مہم میں شدت آئی ہے

انھیں تنازعوں کےدرمیان بی جے پی کےایک رہنما کی مفاد عامہ کی ایک پٹیشن کی بنیاد پر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ہائی کورٹ نے آزادی سے پہلے راجاؤں کےزمانے کےایک قانون کے تحت گائے، بھینس اور بچھڑے کے ذبح پر پابندی کو موثرطریقے سے نافذ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت کےاس فیصلےسے کشمیر میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے۔

دراصل گوشت پر پابندی کا پورا معاملہ تنگ نظر سیاست کا نتیجہ ہے۔ آج کی جدید دنیا میں کسی جمہوری ملک میں کسی محضوص طرح کے کھانے پر پابندی عائد کیا جانا صرف جمہوری اصولوں کےہی منافی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے ۔ یہ جدید اور ترقی یافتہ قوموں کے تصوات سےمطابقت نہیں رکھتا۔ مذہب یا کوئی نظریہ کسی پرمسلط نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایک اچھا پہلو ہے کہ بھارت کےمسلمان گوشت پر پابندی کو مذہب کے پیرائےمیں نہ دیکھ کر اسے نیم مذہبی جماعت بی جے پی کی ہندو ووٹ بینک کی سیاست اور جمہوریی اصولوں کی پامالی کےطور پر دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں