زلزلے کے بعد ایورسٹ سر کرنا پہلے سے مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اب جب کہ ہم نے تمام تر مشکلات کے بعد رسیاں اور سیرھیاں یہاں لگا دی ہیں تو کوہ پیماؤں کے لیے یہ زیادہ مشکل نہیں ہو گی

نیپال میں زلزلے سے تباہ ہونے والے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کے راستے کی مرمت کرنے والے ماہر شرپا کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں پڑنے والے ایک نئے بڑے شگاف کو عبور کرنا ہے۔

یہ شرپا کوہ پیما کئی دنوں سے کھمبو بیس کیمپ اور کیمپ ون پر نئے شگافوں میں راستہ بناتے ہوئے موجود ہیں

اس کے علاوہ رواں ہفتے ہی آئس فال ڈاکٹرز نامی ایک ٹیم بھی کیمپ ون پہنچ گئی ہے۔

ٹیم کے لیڈر آنگ کامی شرپا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیمپ ون اپنی پہلے والی اونچائی سے نیچے آگیا ہے اور کوہ پیماؤں کا بہت سا سامان اور آلات موٹی برف کی تہہ تلے دب چکے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’برف میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں برفانی تودوں کے گرنے کا سلسلہ جاری ہے اور شاید اس کی وجہ پہاڑ پر زلزلے کے بعد برف سے بننے والے ڈھلان ہیں۔‘

شرپاؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بیس کیمپ اور کیمپ ون کے درمیان راستے پر مرمت کا کام مکمل کر لیاگیا ہے جبکہ کیمپ ٹو کے درمیان ایک چھوٹے سے حصے کی مرمت ابھی باقی ہے۔

ان کے مطابق: ’اب جب کہ ہم نے تمام تر مشکلات کے بعد رسیاں اور سیڑھیاں یہاں لگا دی ہیں تو کوہ پیماؤں کے لیے یہ زیادہ مشکل نہیں ہو گی لیکن ہاں یہ ان کے لیے عام کوہ پیمائی کی نسبت تھوڑی سخت ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمپ ون اپنی پہلے والی اونچائی سے نیچے آگیا ہے اور کوہ پیماؤں کا بہت سا سامان اور آلات موٹی برف کی تہہ تلے دب چکے ہیں

نیپال میں 25 اپریل کو آنے والے زلزلے میں نو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جبکہ ایورسٹ کا بیس کیمپ اس زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے برفانی تودوں کی لپیٹ میں آیا تھا اور اس حادثے میں 18 کوہ پیما اور ان کا مددگار عملہ ہلاک ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ اس زلزلے کے بعد آئس فال ڈاکٹرز نامی ٹیم نے پہاڑ کے سروے کا کام شروع کر دیا تھا اور ان کا ارادہ کھمبو آئس فال کے علاقے میں رسیاں نصب کرنے کا تھا۔

زلزلے کے بعد یہاں برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں تباہ ہو گئی تھیں۔

زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی بار مہم جوئی کے لیے ایک جاپانی کوہ پیما 33 سالہ نوبوکازو کوریکی پہلے ہی نیپال پہنچ چکا ہے اور وہ آئندہ ماہ یہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کریں گے۔

حکام کے مطابق اس سیزن میں کوہ پیمائی کے لیے اب تک 30 ٹیموں جن میں دو سو سے زائد کوہ پیما شامل نے اجازت حاصل کر رکھی ہے۔

ان میں سے آدھے کوہ پیما ماؤنٹ مناسلو کو سر کرنے کی کوشش کریں گے یہ پہاڑی دنیا کی آٹھویں بلند ترین پہاڑی ہے اور یہ سب سے زیادہ زلزلے کی زد میں آنے والے کھٹمنڈو کے علاقے میں واقع ہے۔

اسی بارے میں