مدھیہ پردیش میں گیس سلینڈر پھٹنے سے 89 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ S. Niyazi
Image caption دھماکے کے وقت ہوٹل میں دفتر جانے والے افراد اور طلبہ بڑی تعداد میں ناشتہ کر رہے تھے

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا میں گیس سیلنڈر اور آتش بازی کی تیاری کے لیے رکھا گیا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کم از کم 89 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حادثہ سنیچر کو پیٹلاود نامی قصبے میں پیش آیا ہے اور جھابوا کی ڈی ایم ارونا گپتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 60 افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔

ضلعے کے انچارج وزیر انتر سنگھ آریہ نے بتایا کہ دھماکہ صبح تقریبا ساڑھے آٹھ بجے بس سٹینڈ کے قریب ایک ہوٹل میں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت ہوٹل میں اور اس کے پاس لوگوں کی بھیڑ تھی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے قریب ہی واقع ایک دکان میں آتش بازی کا دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا، جس کے پھٹنے کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

اس کے بعد دکان سے ملحق گھر میں رکھے ہوئے گھریلو گیس سلینڈر میں بھی دھماکہ ہوا۔ جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے مرنے والوں کی مختلف تعداد بتائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ S. Niyazi
Image caption دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

ریاستی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ کو وزیر اعلی امدادی فنڈ سے دو لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو سنیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے وقت بہت سے لوگ ہوٹل میں ناشتہ کر رہے تھے جس کی وجہ سے اتنی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

زخمیوں کو فورا قریبی ہسپتال لے جایا گيا ہے۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والے فوٹیج میں لوگوں کو ہاتھوں سے ملبے کو ہٹاتے اور امداد پہنچاتے دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت میں خراب حفاظتی معیار کے سبب گھریلو سلینڈروں میں دھماکے ہوتے رہتے ہیں اور ان میں اموات بھی عام ہے لیکن اس بڑے پیمانے پر ہلاکت کم ہی نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں