آسام کے سیلاب پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی؟

آسام سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption آسام میں آنے والے خطرناک سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں

ہفتوں تک جو کہانی بھارتی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی رہی وہ میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک معروف شخصیت کا قتل تھا۔ اسی دوران اخبارات اور نیوز چینلز نے جس چیز پر بہت کم توجہ دی وہ شمال مشرقی ریاست آسام میں آنے والا خطرناک سیلاب تھا۔

اطلاعات کے مطابق ابھی تک سیلاب سے تباہی کے واقعات میں 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق 1600 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور کم و بیش 120,000 افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر ان کے لیے بنائے گئے 300 سے زائد امدادی کیمپوں میں پناہ لے چکے ہیں۔

ریاست کے سبھی دریا جن میں برہماپترا، جیا بھاریلی، دھانشری، پتھی ماری، بیکی، کتاکھل اور خوشیارا شامل ہیں، تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے خطرناک حد سے اوپر بہہ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption آسام کے 40 فیصد علاقے کو سیلاب کا خطرہ رہتا ہے

مقامی میڈیا نے تو سیلاب کی تباہی کو شہہ سرخیوں میں لیا لیکن قومی میڈیا پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں نظر آیا۔

میڈیا سائٹ ’ہوٹ‘ پر لکھتے ہوئے تجزیہ کار کاکولی ٹھاکر نے کہا کہ اگرچہ آسام سے تعلق رکھنے والی خاتون کے پراسرار قتل کی تو میڈیا میں کافی تشہیر ہوئی لیکن خود ریاست کو، جہاں ہزاروں افراد کئی دہائیوں میں آنے والے بہت برے سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، اخبارات اور ٹی وی چینلز میں خالی جگہ پر کرنے یا چھوٹی خبروں میں ہی جگہ ملی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر اسی طرح کی صورتِ حال کسی اور ریاست میں ہوتی تو حکومت اور میڈیا اسے قومی سانحہ قرار دے دینے میں ذرا بھی تامل نہ کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption دیہات کے زیرِ آب آنے سے لوگ حکومت کی طرف سے بنائے گئے 300 سے زائد امدادی کیمپوں میں رہ رہے ہیں

آسام شاید انڈیا کی وہ ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ سیلاب آتے ہیں۔ 1950 سے اب تک یہاں 12 بڑے سیلاب آ چکے ہیں۔

سو ایسا کیوں ہے کہ جس ریاست میں باقاعدگی سے سیلاب آتے ہیں اسے قومی میڈیا نظر انداز کر رہا ہے۔

سینیئر صحافی اشیش بسواس جو آسام میں کام کر چکے ہیں کہتے ہیں کہ انڈین میڈیا میں ایسی کسی چیز کو اہمیت نہیں دی جاتی جسے معمول کا کام سمجھا جاتا ہے۔

بسواس کہتے ہیں کہ جب وہ آسام میں کام کرتے تھے تو سینیئر ایڈیٹر انھیں کہتے تھے: ’مہربانی کر کے سیلاب پر مزید کہانیاں نہ بھیجیں۔‘

Image caption آسام میں مون سون کے دوران سیلاب ایک معمول کی بات بن گئے ہیں

آسام میں ہمیشہ ہی سیلاب آتے رہے ہیں لیکن 1950 میں آنے والے شدید زلزلے کی وجہ سے علاقے کی جغرافیائی حالت میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی تھیں جس کے بعد صورتِ حال اور بری ہو گئی ہے۔

ماحولیاتی ماہر پرتھا جے داس کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے ریاست کی برہماپترا وادی میں سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ آسام کا 40 فیصد علاقہ سیلاب کی زد میں ہے اور برہماپترا کی وادی کا سیلاب زدہ علاقہ پورے انڈیا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا 9.6 فیصد ہے۔

دریاؤں کا مطالعہ کرنے والے دلال گوسوامی کہتے ہیں کہ 1950 کے زلزلے کے بعد سے برہماپترا دریا مزید غیر مستحکم ہو گیا ہے اور دریا کے راستے کا رخ مڑنا اور زمین کا کٹاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔

Image caption حکومت کی طرف سے بنائے گئے پشتے پہلے ہی بڑی بری حالت میں ہیں

سنہ 2000 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ باقاعدگی سے ہونے والی مون سون کی بارشیں، زمین کا زیادہ کٹاؤ، دریا کے آبی راستوں پر گاد کا اکٹھا ہونا، جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی اور سیلابی علاقوں میں آبادی میں اضافے کے باعث زمین کی کمی کی وجہ سے ریاست میں اکثر سیلاب آتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کی روک تھام کے اقدامات بڑے ناقص ہیں۔

حکومت نے سیلاب کو روکنے کے لیے دریاؤں پر 450 بند بنائے ہیں، لیکن ان میں سے تقریباً آدھے کے قریب یہ پشتے خود ہی بہت بری حالت میں ہیں۔

آسام میں قائم سینٹر فار انوائرنمنٹ، سوسائٹی اینڈ پالیسی ریسرچ کے امرجیوتی بورا کہتے ہیں کہ ریاست اور ملک چلانے والوں کے لیے 2012 اور 2015 کے سیلاب ایک وارننگ ہونا چاہیں۔

’لیکن شاید ایسا نہیں ہو رہا۔ سیاسی جماعتیں اگلے سال کے الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔‘

اسی بارے میں