دہلی میں ڈینگی، حکومت کی ہسپتالوں کو کارروائی کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں ہفتے ہی دہلی میں ڈینگی کے 1800 سے زیادہ مریض سامنے آ چکے ہیں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈینگی کے مریض بچوں کا علاج نہ کرنے کی اطلاعات پر ہسپتالوں کی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں دو خاندانوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے ڈینگی میں مبتلا بچوں کی موت کی وجہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کا نہ ہونا تھا۔

دہلی پانچ سالوں میں ڈینگی بخار کی بدترین وبا کی گرفت میں ہے جس سے اب تک 11 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

صرف رواں ہفتے ہی دہلی میں ڈینگی کے 1800 سے زیادہ مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 2010 میں کل مریضوں کی تعداد 1695 تھی۔

حکام نے نجی ہسپتالوں میں اچانک چھاپے مارنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ڈینگی کے مریضوں کو واپس نہ بھیجیں۔

اس کے علاوہ مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آنے کے بعد ریاست میں ڈاکٹروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق منگل کو وزیرِاعلیٰ اروند کیجروال نے چند ہسپتالوں کا اچانک دورہ کیا اور متنبہ کیا کہ ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو واپس بھیجنے والے ہسپتالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اروند کیجروال نے کہا کہ ’یہ بہت افسوسناک ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دُھن میں اندھے ہو چکے ہیں۔ ہمیں انسانیت نہیں بھُولنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی پانچ سالوں میں ڈینگی بخار کی بدترین وبا کی گرفت میں ہے جس سے اب تک 11 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے

’ہم ایسا قانون لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے علاج معالجے سے انکار کی صورت میں ہسپتالوں کو سزا دی جا سکے۔ اسے باقاعدہ قانون کی شکل دینے کے لیے ہم آنے والے چند دنوں میں قانون ساز اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس طلب کریں گے۔‘

قانون سازی کا یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب گذشتہ ہفتے دہلی میں اپنے بیٹے کی ڈینگی سے موت کے بعد ایک جوڑے نے چار منزلہ عمارت سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔

ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آنے کے بعد کہ مذکورہ جوڑے کے بچے کو پانچ نجی ہسپتالوں نے داخل کرنے سے انکار کیا تھا، حکام نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ڈینگی وائرس سے آلودہ مچھر پانی میں اپنی نسل کی افزائش کرتا ہے۔ ڈینگی کیسز زیادہ تر برسات کے موسم میں اور اس کے فوری بعد شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ موسم عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے۔

مون سون کی بارشیں بیماری پیدا کرنے والے مچھروں کی نسل کو افزائش کے لیے مزید جگہ فراہم کر دیتی ہیں۔

ڈینگی مچھر صاف پانی کے برتنوں، ٹھہرے ہوئے پانی، جوہڑوں اور کُھلے نکاسی کے نالوں سمیت ٹھہرے ہوئے پانی میں اپنے انڈے دیتے ہیں۔

اسی بارے میں