چپراسی کی 368 اسامیوں کے لیے 23 لاکھ امیدوار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں چپراسی کی چند سو اسامیوں کے لیے لاکھوں امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔

اترپردیش کی حکومت کی جانب سے 368 چپراسیوں کی بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں جن کے لیے تقریباً 23 لاکھ امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے ان امیدواروں میں دو لاکھ سے زیادہ گریجویٹوں کے علاوہ بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس انجینیئرنگ اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔

ملک میں بے روز گاری کا عالم یہ ہے کہ اسی سال مدھیہ پردیش میں تقریباً 1300 چپراسیوں کی نوکریوں کے لیے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے۔

اترپردیش میں چپراسیوں کی نوکریوں میں خاص دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ ملازمتیں ریاستی سیکریٹیریٹ میں ہیں جہاں سے حکومت چلتی ہے۔

ماہر اقتصادیات پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا کہتے ہیں کہ ’ملک میں جس رفتار سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے چاہییں وہ نہیں ہو رہے، اور سرکاری ملازمتوں میں لوگوں کی خاص دلچسپی رہتی ہے کیونکہ سرکاری نوکری میں تنخواہ بھلے ہی کم ہو، کسی کو نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی سرکاری نوکری کے لیے لوگ رشوت دینے کے لیے تیار رہتے ہیں جس سے بدعنوانی کےسسلسلے کو فروغ ملتا ہے۔

Image caption سوا ارب آبادی والے بھارت میں سرکاری نوکری ملنا آسان نہیں

دوسرا اہم سوال یہ بھی ہے کہ بے روزگاری اپنی جگہ، اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ چپراسی کی نوکری کے لیے کیوں کوشش کر ر ہے ہیں؟ کیا یہ رجحان ملک میں تعلیم کے معیار پر سوال نہیں اٹھاتا؟

پرنجوئے گہا ٹھاکرتا کے مطابق ’تعلیم کے موجودہ نظام کے تحت ڈگریوں کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اگر ان ڈگریوں کے بعد بھی کہیں نوکری نہیں مل رہی تو لوگ کیا کریں گے؟ اس لیے جو بھی نوکری ملتی ہے لے لیتے ہیں۔‘

بہرحال، بےروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور بہت سے لوگوں کو یہ دیرینہ شکایت ہے کہ جب ملک کی معیشت تیز رفتار سے بڑھ رہی تھی، تب بھی اس کا فائدہ غریب لوگوں تک نہیں پہنچ رہا تھا۔

لیکن اس وقت اتر پردیش کی حکومت کے سامنے اس سے بھی بڑا چیلنج ہے اور وہ یہ کہ 23 لاکھ امیدواروں میں سے 368 کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

اسی بارے میں