کیا مہاتما گاندھی متعصب تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد جنوبی افریقہ میں گاندھی کا ذکر ایک بار پھر زندہ ہوگیا ہے

مہاتما گاندھی کو دنیا نوآبادیاتی نظام کے مخالف، مذہبی مفکر، عملیت پسند اور ایسے بنیاد پرست کے طور پر جانتی ہے جنھوں نے عدم تشدد پر یقین رکھتے ہوئے موثر طریقے سے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

انھیں ایک دانا سیاسی مدبر اور ہندو مذہبی جذبات ابھارنے والی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہندوستان کے سب سے بڑے رہنما متعصب بھی تھے؟

جنوبی افریقہ میں گزرنے والے گاندھی کے شب و روز اور ان کے کام پر سامنے آنے والی ایک نئی متنازع کتاب کے مصنفین کا کچھ ایسا ہی کہنا ہے۔

جنوبی افریقی ماہرین تعلیم اشوِن ڈیسائی اور گولام واحد نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ جنوبی افریقہ میں گزارنے والے گاندھی کی پیچیدہ زندگی پر سات سال تحقیق کی ہے۔

گاندھی 1893 سے 1914 تک جنوبی افریقہ میں مقیم تھے جہاں انھوں نے ہندوستانی عوام کے حقوق کے لیے مہم چلائی تھی۔

کتاب ’ساؤتھ افریقن گاندھی: سٹریچر بیریئر آف ایمپائر‘ کے مصنفین لکھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران گاندھی نے ہندوستانیوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو ’افریقیوں اور افریقی نژاد مختلف مخلوط نسل کے لوگوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے الگ رکھا تھا۔ اگرچہ موخرالذکر کے سیاسی حقوق بھی ان کی رنگت اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیے گئے تھے۔‘

دونوں مصنفین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ گاندھی کی سیاسی حکمت عملی، مظالم کے خلاف مہم اور تجارت اور نقل و حمل کی آزادی کی تحریکوں پر مخصوص ہندوستانی شناخت کی چھاپ نمایاں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption گاندھی 1893 سے 1914 تک جنوبی افریقہ میں مقیم تھے

اس مخصوص ہندوستانی شناخت کے باعث ’گاندھی ہندوستانیوں کے حقوق کے لیے جو جدوجہد کر رہے تھے افریقی اس سے بالکل کٹ گئے تھے جبکہ ابتدائی برسوں میں ان کا رویہ سفید فاموں جیسا تھا۔‘

مصنفین لکھتے ہیں کہ گاندھی نے افریقی غلاموں اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم سے خود کو لاتعلق رکھا ہوا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ریاست کی باگ ڈور اور طاقت سفید فام باشندوں کے ہاتھوں ہی میں ہونی چاہیے جبکہ وہاں اپنے قیام کے دوران بڑے عرصے تک وہ سیاہ فام افریقیوں کے لیے توہین آمیز اصطلاح ’کافر‘ استعمال کرتے رہے تھے۔

جنوبی افریقی پارلیمان کو 1893 میں لکھے گئے ایک خط میں گاندھی لکھتے ہیں: ’برطانوی نو آبادیوں میں عام تاثر یہ ابھر رہا ہے کہ ہندوستانی دوسروں سے بہتر ہیں، اور اگر ایسا ہے تو وہ وحشی افریقی باشندوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔‘

’کُولی لوکیشن‘ کے نام سے کچی آبادی کے بارے میں سنہ 1904 میں گاندھی جوہانسبرگ کے صحت کے ادارے کے ایک عہدیدار کو لکھتے ہیں کہ کونسل سے ’کافروں کو ہر صورت نکالا جائے۔ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہندوستانیوں اور کافروں کے ایک ساتھ رہنے پر مجھے شدید تحفظات ہیں۔‘ اس گندی کچی آبادی میں ہندوستانیوں کے ساتھ افریقیوں کی بھی بڑی تعداد آباد تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس ہی سال گاندھی لکھتے ہیں کہ افریقیوں کی طرح ہندوستانی نہ تو ’جنگی رقص کرتے ہیں نہ کافر شراب پیتے ہیں۔‘ اور جب 1905 میں ڈربن میں طاعون کی وبا پھیلی تو گاندھی نے لکھا کہ یہ مسئلہ اس وقت تک رہے گا جب تک ہندوستانیوں اور افریقیوں کو ’ہسپتالوں میں بلاامتیاز ایک ساتھ بھر دیا جائے گا۔‘

مورخین کے مطابق گاندھی کے بارے میں یہ باتیں نئی نہیں ہیں۔ جبکہ برطانوی تسلط کے خلاف آزادی کی مہم کی قیادت کرنے والے گاندھی پر جنوبی افریقہ میں پہلے ہی کچھ لوگ نسلی تعصب کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

رواں سال اپریل میں گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ادھر سوشل میڈیا پر’#گاندھی مسٹ فال‘ کا ہیش ٹیگ بھی گردش میں ہے۔

گاندھی کی سوانح عمری کے مصنف اور ان کے پوتے راج موہن گاندھی کہتے ہیں کہ نوجوان گاندھی 24 سال کی عمر میں وکیل کی حیثیت سے جنوبی افریقہ پہنچے تو یقیناً کبھی وہ ’جنوبی افریقی باشندوں کے بارے میں ناواقفیت کا شکار ہونے کے باعث متعصب ہو جاتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کے حقوق کے لیے شروع کی جانے والی مہم نے ہی افریقی باشندوں کے حقوق کے لیے شروع ہونے والی جدوجہد کا راستہ کھولا تھا۔‘

راج موہن گاندھی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ’گاندھی کی شخصیت کمزوریوں سے پاک نہیں تھی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’شخصی کمزوریوں کے باوجود بھی وہ اپنے ہم عصر رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ بنیاد پرست اور ترقی پسند تھے۔‘

’گاندھی بی فور انڈیا‘ کے مصنف راما چندرا گوہا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’جنوبی افریقہ میں 20ویں صدی کے اوائل میں رنگت کی بنیاد پر مساوات کے لیے آواز اٹھانے کا تصور نہیں تھا۔‘

Image caption ڈربن میں گاندھی کے پیروکار بڑی تعداد موجود ہیں

ایک اور مبصرگاندھی پر نسلی تعصب کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے’ایک پیچیدہ نظام زندگی پر سادہ نقطۂ نظر اختیار کیا تھا۔‘

دوسری جانب نئی کتاب کے مصنفین اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

اس بارے میں اشوِن ڈیسائی کا کہنا ہے کہ ’گاندھی آریائی بھائی چارے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ معاشرتی سطح پر سفید فام اور ہندوستانی، افریقیوں سے درجے میں بلند تھے۔ اس حوالے سے وہ نسلی بنیادوں پر متعصب تھے۔ وہ اس حد تک متعصب تھے کہ تاریخ میں افریقیوں کا ذکر بھی نہیں چاہتے تھے اورانھیں مغلوب کرنے میں سفید فاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار تھے۔

’وہ اس حد تک متعصب تھے کہ اقلیتی سفید فام طاقت کو تسلیم کرتے تھے اور اس میں ان کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی لیکن شامل ہونا چاہتے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس میں ان کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ورنہ اس وقت ہم بھی نسلی بنیادوں پر ہونے والی مظالم کےمجرم ہوتے۔‘

لیکن اگر گاندھی اس وقت کی متعصبانہ سوچ کا حصہ تھے تو پھر ان کو جنوبی افریقہ کی آزادی کی مہم میں حصہ لینے والی عظیم شخصیات کی فہرست میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے؟

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گاندھی ایک طرف تو جنوبی افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کی غلامی کے معاون ہوں اور دوسری جانب جنوبی افریقہ کو آزادی دلانے میں ان کے کردار کا دفاع بھی کیا جائے؟

ڈیسائی اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ گاندھی نے مقامی سطح پر شروع ہونے والی افریقی باشندوں کے حقوق کی جدوجہد کا راستہ آسان کیا تھا۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اس طرح تو ’آپ ایک ہی جملے میں گاندھی کی آمد سے بھی قبل نو آبادیاتی نظام کے خلاف شروع ہونے والی جدوجہد کی تاریخ میں سے افریقیوں کو ہی نکال باہر کر رہے ہیں۔‘

گوہا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کیپ ٹاؤن میں ان کے ایک دوست نے ایک بار ان سے گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تم نے ہمیں ایک وکیل دیا تھا، اور ہم نے تمہیں ایک مہاتما (عظیم روح) لوٹا دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گاندھی پر جنوبی افریقہ میں کچھ لوگ نسلی تعصب کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہیں

اشوِن ڈیسائی سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں جنھوں نے ’افریقی باشندوں پر زیادہ محصولات لگانے کی حمایت کی اور حکمرانوں کی جانب سے ان باشندوں پر کیے جانے والے مظالم پر آنکھیں بند کیے رکھیں یہ ایک ’مضحکہ خیز‘ دعویٰ ہے۔‘

ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ اس نئی کتاب اور اس کے مصنفین نے گاندھی کے بارے میں روایتی بھارتی تاریخ نویسی پر اختلاف رائے کا اظہار کیا ہو۔ سنہ 2013 میں تاریخ نویس پیٹرک فرنچ نے لکھا تھا: ’گاندھی کی جانب سے افریقی باشندوں کے لیے آواز نہ اٹھانا ان کی نیک شخصیت ہونے کے فرضی لبادے میں ایک بڑے سے چھید کے مترادف ہے۔‘

ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد جنوبی افریقہ میں گاندھی کا ذکر ایک بار پھر زندہ ہوگیا ہے۔ اور گاندھی پر ’حاکموں کا خیر خواہ‘ ہونے کے تحفظات کے باوجود ڈیسائی اور واحد تسلیم کرتے ہیں کہ گاندھی نے ’بہرحال بین الاقوامی سطح پر مساوات اور وقار کا مطالبہ‘ کیا تھا۔

عظیم سے عظیم تر شخصیت کے کردار میں بھی سُقم ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر گاندھی بھی اس سے مستثنٰی نہیں تھے۔

اسی بارے میں