چین میں اقتصادی تبدیلی کا سفر

چین میں صنعتوں کے فروغ کی وجہ سے ملک کی شہری آبادی میں بےحد اضافہ ہوا ہے اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد اب کام کی تلاش میں شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہاں پر چین میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی کہانی کو تصاویر، انفوگرافکس کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق چین میں میں دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کی تعداد جو کہ 1970 میں صرف 16 تھی 2015 میں 106 تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں 45 اور براعظم یورپ میں 55 ایسے شہر ہیں۔

کنکریٹ کا استعمال

اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کی وجہ سے چین میں تعمیرات کے شعبے میں بھی انقلاب آیا ہے۔

چین میں عمارتیں اتنی تیزی سے کیسے تیار ہو جاتی ہیں؟ اس کی مثال یہ کثیرالمنزلہ عمارت ہے جو صرف 19 دن میں تیار کی گئی۔

اگرچہ چینی شہروں میں رہائش گاہیں تیار کی جا رہی ہیں لیکن ان کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں لوگ رہ بھی رہے ہیں۔ کئی نوآباد قصبے، رہائشی کالونیاں اور خریداری کے مراکز خالی پڑے ہیں اور انھیں ’بھوتوں کے شہر‘ کی عرفیت دی گئی ہے۔

دھندلے دن

چین کی اس اقتصادی ترقی کا ماحول پر منفی اثر بھی پڑا ہے۔ ملک میں آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بلند ہے اور اس آلودگی کی بڑی وجہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ہیں جن پر چین اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔

بیجنگ میں آلودہ دھند اتنی زیادہ ہے کہ سنہ 2013 میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے سیٹیلائٹ کیمروں نے خلا سے اس دھند کی تصویر کشی کی تھی۔

بیجنگ کی سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنوری 2013 میں آلودہ دھند کی خراب ہوتی صورتحال عیاں ہے۔ دائیں طرف والی تصویر میں دھند کو شہر کے زیادہ تر حصے کو ڈھانپے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

چین نے آلودگی میں کمی کے لیے ہزاروں ایسے کارخانے بند کر دیے ہیں جو کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرتے تھے۔

تاہم اس کے باوجود چین کی وزارتِ ماحولیات کے مطابق 2014 میں چین کے 74 بڑے شہروں میں سے صرف آٹھ ہی صاف ہوا کے حکومتی معیار پر پورا اترے۔

مثال کے طور پر بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں بیشتر اوقات ہوا کا معیار امریکی پیمانوں کے مطابق مضر، انتہائی مضر یا خطرناک پایا گیا۔ تاہم 2008 میں جب سے سفارتخانے کی جانب سے اعدادوشمار اکٹھے کرنا شروع کیے گئے ہیں ایسے دنوں میں کمی آئی ہے جن میں ہوا کا معیار غیرصحتمند تھا۔

چین نے خود بھی 2012 میں فضائی آلودگی کے بارے میں اعدادوشمار فراہم کرنا شروع کیے۔ اس کا کہنا ہے کہ کاربن اخراج کی حد کے تقرر اور کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کی بندش کی وجہ سے 2015 تک فضائی آلودگی میں کمی لانے میں کامیابی ملی ہے۔

امارت کا سفر

چین میں کمیونسٹ پارٹی نے 1978 سے سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں کو متعارف کروانا شروع کیا۔ 1980 میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دیے جانے کے بعد کارخانوں نے سستی مزدوری کا فائدہ اٹھایا اور اب چین دنیا میں اشیا کا سب سے بڑا تیارکنندہ بن چکا ہے۔

چین کی معیشت 2010 تک گذشتہ تین دہائیوں میں دس فیصد کی شرح سے بڑھی لیکن اس کے بعد وہ سست روی کا شکار ہوئی ہے۔

اس کے باوجود حالیہ برسوں میں اس نے جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے لیکن اس کی مجموعی قومی پیداوار اور فی کس آمدن کا تناسب اب بھی امریکہ، جاپان، جرمنی اور برطانیہ سے کہیں کم ہے۔

بیرونِ ملک سفر اور تعطیلات

چین کے مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا نتیجہ عوام کے پاس خرچ کرنے کے لیے زیادہ رقم کی شکل میں بھی نکلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بیرونِ ملک سیاحت کے لیے جانے والوں میں سب سے زیادہ افراد چینی ہیں اور یہ لوگ سالانہ تعطیلات میں 165 ارب ڈالر خرچ کر کے پہلے نمبر پر ہیں۔

سیاحت اور تعطیلات گزارنے کے لیے چینیوں کے پسندیدہ ممالک میں ہانگ کانگ، جاپان، فرانس، جنوبی کوریا، امریکہ اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

خنزیر کے گوشت کا استعمال

چین میں ایک عرصے سے خنزیر کا گوشت مرغوب ترین گوشت رہا ہے لیکن کم آمدنی کی وجہ سے یہ خاص مواقع پر ہی عوام کی پہنچ میں ہوتا تھا۔ تاہم اب ایسا نہیں ہے۔

چینی آبادی کی خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کی وجہ سے چین میں خنزیر کے گوشت کی کھپت بھی بڑھی ہے۔

اب دنیا بھر میں کھائے جانے والے خنزیر کے گوشت میں سے نصف چین میں استعمال ہوتا ہے۔

وہ جو پیچھے رہ گئے

ذاتی آمدن میں اضافے کے باوجود چین میں ہر کسی کو برابر فائدہ نہیں ہوا اور چین کی شہری اور دیہی آبادی میں دستیاب آمدن کے فرق میں 1990 کے بعد سے اضافہ ہی ہوا ہے۔

چین میں ’ہوکو‘ نامی رجسٹریشن کا نظام اس تقسیم میں شدت پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر کارکنوں کو ان شہروں میں صحتِ عامہ اور رہائش کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں جہاں وہ کام کرتے ہیں۔

شہروں کی جانب آبادی کی نقل مکانی ملک کی نوجوان نسل کو بھی متاثر کر رہی ہے اور چین میں چھ کروڑ دس لاکھ دیہاتی بچے ایسے ہیں جنھیں اپنے والدین کا ساتھ میسر نہیں کیونکہ وہ شہر میں کام کرتے ہیں۔