گایتری دیوی کے پوتا پوتی شاہی وراثت کے حق دار

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گایتری دیوی بھارت کی آخری مہارانیوں میں سے ایک تھیں

بھارت کی آخری مہارانیوں میں سے ایک گایتری دیوی کے پوتے اور پوتی نے ان کی جائیداد پر ایک طویل قانونی جنگ جیت کر اپنی وراثت حاصل کر لی ہے۔

گایتری دیوی کا انتقال جولائی سنہ 2009 میں ہوا تھا۔ انھیں دنیا کی سب سے خوبصورت خواتین میں سے شمار کیا جاتا تھا۔

فیشن کی مشہور علامت اور پارلیمنٹ کی سابق رکن گایتری دیوی شمالی بھارت کے شہر جے پور کے مہاراجہ کی تیسری اہلیہ تھیں۔

ان کے سوتیلے بچوں نے عدالت میں ان کے وصیت نامے کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ گایتری دیوی کی زندگی کے آخری مرحلوں میں ان کے پوتے اور پوتی نے انھیں ’ گمراہ‘ کیا تھا۔

گایتری دیوی کی موت کے بعد ان کی وراثت پر ایک طویل قانونی جنگ ہوئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے اندازے کے مطابق ان کی دولت 20 کروڑ سے 40 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔ ان کی وراثت میں وہ عالیشان ہوٹل بھی شامل ہیں جو پہلے محلات ہوتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption گایتری دیوی نے سنہ 1962 میں پارلیمنٹ کے انتخابات جیت کر روایت توڑ دی تھی۔ یہاں وہ برطانیہ کی ملکا اور شہزادہ فلپ کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں

گایتری دیوی کی موت کے بعد ان کی جائیداد پر ان کے پوتے دیو راج سنگھ اور پوتی لالتیہ کماری نے سابق مہاراجہ کے دیگر پوتے پوتیوں کے ساتھ سخت مقابلہ کیا۔

ان کی وصیت کے مطابق گایتری دیوی کی جائداد کے واحد وارث ان کا پوتا اور پوتی تھے۔ لیکن ان کے سوتیلے بچوں کا کہنا تھا کہ گایتری دیوی نے اپنی وصیت بڑی عمر میں لکھی تھی، جب وہ صحیح طرح بات بھی نہیں کر سکتی تھیں تاہم ان کی جائیداد کا ایک حصہ ان کے سوتیلے بچوں نے بھی مانگا۔

بدھ کو سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے صادر کردہ پہلے فیصلے کو برقرار رکھا جو گایتری دیوی کے پوتے پوتی کے حق میں کیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق انھیں ان کی جائیداد سے محروم رکھا گیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق دیو راج سنگھ نے کہا: ’ان سارے برسوں میں ہم دو بہن بھائی خاندان کی کمپنی سے صرف اپنے والد کا حصہ مانگ رہے تھے جس پر ہمارا حق ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ آخر کار میں اپنے آبائی ملک کی خدمت میں ایک قدم آگے بڑھ سکتا ہوں۔‘

اسی بارے میں