’کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو معقول جواب دیا جائےگا‘

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکہ میں صنعت کاروں اور تاجروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشن

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکہ میں صنعت کاروں اور تاجروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں

بھارت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو اس کا معقول جواب دیا جائے گا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’کشمیر پر بیان آیا، تو ہم اس کا جواب دیں گے۔‘

اس سے پہلے ایک پاکستانی سفارت کار نے اسلام آباد میں کہا تھا کہ نواز شریف کشمیر کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور وہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھائیں گے۔

نواز شریف 30 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

امریکی صنعت کاروں سے ملاقات

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کے کنونشن میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک دونوں کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

گذشتہ برس اقوام متحدہ میں نواز شریف نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کے دوران اس پر سخت احتجاج کیا تھا۔

سرمایہ کاری پر زور

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے بتایا کہ امریکی کمپنیوں کا بنیادی زور اس بات پر ہے کہ سرمایہ کاری کی سمت میں ہندوستان صحیح قدم اٹھا رہا ہے، لیکن اسے بعض خاص اقدامات کرنے اور تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقعے پر مودی نے امریکہ کے بڑے میڈیا اداروں، مالیاتی اداروں اور شعبۂ تعمیر کی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے ساتھ ملاقات کی۔

وکاس سوروپ کا کہنا تھا: ’وزیر اعظم نے بہت صاف گوئی سے بات کی۔ انھوں نے بھارت میں ترقی کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے، اور یہ بھی کہا کہ اگر ترقی کی راہ میں کہیں کوئی رکاوٹ آتی ہے تو اسے دور کیا جائے گا۔‘

جمعرات کے روز ہی مودی نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے بھی ملاقات کی اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔