بنگلہ دیش میں اطالوی امدادی کارکن قتل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش میں شدت پسند اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے

بنگلہ دیش میں پولیس حکام پیر کی رات گولی مار کر ہلاک کیے جانے والے اطالوی امدادی کارکن کے قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ڈھاکہ میں قتل کیے جانے والے 50 سالہ سیزر ٹوالہ کو مارنے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

بنگلہ دیش میں سیکولی بلاگر شدت پسندوں کے نشانے پر

سکیورٹی خدشات آسٹریلیا کا دورہ بنگلہ دیش موخر

پولیس کمشنر اسد الزمان میاں کا کہنا ہے کہ سیزر ٹوالہ چہل قدمی کر رہے تھے جب دو حملہ آروں نے پیچھے سے ان پر گولی چلا دی۔

واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلات ہیں کہ بنگلہ دیش میں مغربی شہریوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور دونوں ملکوں نے بنگلہ دیش میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی تھی۔

امریکہ اور برطانیہ نے ملک میں اپنی سفارتی عملے کی نقل وحرکت بھی محدود کر دی تھی۔

بی بی سی کی ساؤتھ ایشیا ایڈیٹر جوانا جولی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے اس قبل بنگلہ دیش میں اپنی شاخ کے قیام کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ گروہ نے ملک میں کسی کارروائی کی ذمہ داری لی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صلیبی اتحاد‘ کے شہری مسلم ممالک میں محفوظ نہیں رہ سکتے۔

تاہم ڈھاکہ پولیس نے دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش میں شدت پسند اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں برس ملک میں شدت پسندوں کی جانب سے سیکولر بلاگرز پر حملے کیے گئے ہیں جن میں ایک امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں