مودی جذبات کے اظہار میں فراخ دل کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption مودی فیس بک کے بانی مارک زکر برگ سے گلے مل رہے ہیں

نریندر مودی ایک ایسے بھارتی رہنما ہیں جو اپنے جذبات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔

ان کے امریکہ کے دورے میں وہ نے فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ سے گرم جوش انداز سے گلے ملے۔ نیویارک میں صدر براک اوباما سے بھی وہ اسی انداز میں ملے تھے۔

نریندر مودی کا فیس بک کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

اگست میں مودی نے ابوظہبی سے شہزادے شیخ محمد بن زید النہیان کو گلے لگایا تھا جس کے بعد انٹرنیٹ پر ان پر مبنی کئی مزاحیہ تصاویر شیئر کی گئیں تھی۔

یہی نہیں بلکہ مودی جاپانی وزیر اعظم شینزو ایبے اورسابق آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ سے بھی بغل گیر ہوئے تھے۔

لیکن ان کے گلے لگانے کے واقعات میں سب سے مشہور واقعہ رواں سال جنوری میں پیش آیا جب مودی نے صدر اوباما کو پرجوش طریقے سے گلے لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption گذشتہ جنوری میں مودے دہلی میں اوباما سے گلے ملے

انتہائی جوشی سے بھرے ہوئے بھارتی ٹی وی چینلوں نے ’مودی اور اوباما کی بغل گیری‘ کے نام سے سرخیاں چلائیں۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا ’ اس کی توقع نہیں تھی‘۔

جو بھی ہو، جب وہ بااثر افراد سے ملتے ہیں تو مودی اپنے جذبات کے اظہار کے بارے میں فکر نہیں کرتے ہیں۔

اگر آپ گوگل پر ’مودی ہگنگ‘ کی سرچ کریں تو 50 سیکنڈ میں آپ کو اس سے متعلق تین لاکھ سے زائد نتائج ملتے ہیں۔

بھارتی شہری اور سیاستدان اتنے کھلے دل سے ملنے پر نہیں جانے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption مودی جاپانی وزیر اعظم سے گلے مل چکے ہیں

سنہ 1983 میں کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو نے کئی بھارتی شہریوں کو حیران و پریشان کر دیا جب وہ ایک کانفرینس کے دوران سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سے گلے ملے تھے۔

اندرا گاندھی کے سوانح نگار پرانے گپتے نے لکھا ’اندرا گاندھی اپنے جذبات کا اظہار کبھی کھل کر نہیں کرتی تھیں۔ جب فیڈل کاسترو ان کے گلے ملے تو وہ واضح طور پر پیچھے ہٹ گئیں اور سفارتی تعلقات کے مفاد میں محض مسکرانے لگیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اگست میں مودی نے ابو ظہبی سے شہزادے شیخ محمد بن زید النہیان کو گلے لگایا تھا

تاہم اپنی جوانی میں مودی کا ملنے کا انداز مختلف تھا جب وہ دہلی میں اپنی جماعت کے ایک کارکن تھے۔

ان کے سوانح کار نیلانجن مکھوپادھیائے کہتے ہیں کہ مودی ’ایک گرم جوش اور پیار کرنے والے انسان تھے‘۔ لیکن گجرات کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد وہ ’اجلاسوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھنڈے دل کا برتاؤ رکھتے تھے اور محض ہاتھ ملاتے یا پھر کسی قریبی ساتھی کے بازو کو چھوتے تھے۔‘

نیلانجن مکھوپادھیائے نے مزید کہا ’لیکن ان کا موجودہ انداز بالکل مختلف ہے۔ اب تو وہ ہر ایک کو گلے لگاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار پہلے کبھی اتنے کھلے دل سے نہیں کیا تھا۔ ان کے گلے لگانے کے انداز سے یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ ایک ارب سے زیادہ بھارتی شہریوں کے نمائندے ہیں اور جیسے کہ وہ کہہ رہے ہیں ’جغرافیائی لحاظ سے میرا اثر و رسوخ ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا ’مودی بھارت میں یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ ’مجھے دنیا بھر میں عزت دی جاتی ہے اس لیے میرا احترام کرو اور اپنے ووٹ میرے حق میں ڈالو‘۔ یہ بہت بااثر تصاویر ہیں۔‘

سننے سے پہلے لوگ دیکھتے ہیں اور ہاتھ ملانے کی رسم تحمل اور احترام کی مظہر ہے لیکن گلے لگانا رسمی پروٹوکول سے باہر جاتا ہے۔

اس سے پیار اور بے ساختگی دکھائی دیتی ہے۔ نریندر مودی ضرور یقین کرتے ہوں گے کہ گلے لگانے سے انھیں زیادہ فائدہ ملے گا۔ آخر یہ صرف پیار کی سیاست تو نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی کے جسمانی حرکات و اشارات بھی مختلف شرکا کے لیے بدلتے رہتے ہیں

ان کے جسمانی حرکات و اشارات بھی مختلف شرکا کے لیے بدلتے رہتے ہیں۔

سماجی علوم کے ماہر شیو وشواناتھن کہتے ہیں کہ مسٹر مودی کے تین قسم کے اہم شرکا ہیں: تارکین وطن، غیر ملکی رہنما اور بھارتی عوام۔

ماہر شیو وشواناتھن نے کہا ’بھارت عوام کے لیے وہ ایک دور سے بات کرتے ہیں، تارکین وطن کے لیے وہ زندہ دل رویہ رکھتے ہیں۔ اور غیر ملکی رہنماؤں سے وہ بہت پیار سے گلے ملتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’مودی کی یہ کوشش کچھ زیادہ ہی واضح ہے۔ وہ دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان کے دوست ہیں اور بہت پیار کرنے والے انسان ہیں۔ نریندر مودی ایک اداکار ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ خد اپنا مذاق بن گئے ہیں۔ یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا رہنما خود پر زیادہ اعتماد رکھے۔‘

اسی بارے میں