قندوز میں طالبان کی’سیلفیز‘ کا مقصد کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption طالبان کا مقصد ایک پر سکون فتح کی تصویر پیش کرنا ہے لیکن باشندوں کی جانب سے وہ ایک خوف زدہ ماحول میں رہہ رہے ہیں

پروپیگینڈا ایک طویل عرصے سے افغان طالبان کا ’ہتھیار‘ رہا ہے لیکن بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار محمد زاہد کے مطابق گذشتہ پیر کو قندوز کے حملے سے طالبان کو موقع ملا کہ وہ اپنے آپ کو سڑکوں پر کھلے عام ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے دکھائیں۔

کھلی جیلوں سے بھاگتے ہوئے قیدیوں کے ساتھ ساتھ کھلے عام سڑکوں پر سیلفی لینے والے طالبان کی تصاویر قندوز کے حملے کی شاید سب سے زیادہ حیران کن اور چونکا دینے والی تصاویر ہیں۔

قندوز پر طالبان کا قبضہ

قندوز میں لڑائی تیز، نیٹو کے فوجی بھی مدد کے لیے آ گئے

قندوز کیوں اہم ہے؟

طالبان فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر متحرک ہیں۔ وہ موبائل فون سے بھی جہادی پیغام بھیجتے رہتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ انھوں نے سڑکوں پر اس طرح کے رویے کی نمائش کی ہے۔

ان میں سے کئی نوجوان پیادہ سپاہی ہوں گے جنھوں نے اب تک کم کامیابیاں حاصل کی ہوں گی۔ ماضی سے سبق سیکھ کر شاید اب وہ اپنے جذبات کا اظہار ایک الگ انداز سے کرنا چاہتے ہیں۔

ان کی موجودہ حوصلے کے برقرار رہنے کا امکان کم ہے کیونکہ اتحادی فوج کی قیادت میں افغان سکیورٹی فورسز شدت پسندوں پر فضائی حملے کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption طالبان کے کئی شدت پسند شہر کے مختلف مقامات پر کھڑے سفید پرچم لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں

بہرحال گذشتہ پیر کو طالبان نے اپنی پروپیگنڈہ ویب سائٹ ’جہاد کی آواز‘ کے ذریعے ایک بیان اور دو تازہ ترین خبریں جاری کی جن میں انھوں نے قندوز کے شہر پر اپنے محاصرے سے لوگوں کو باخبر کیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت کئی شدت پسند شہر کے مختلف مقامات پر کھڑے سفید پرچم لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جن کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔

ان کا مقصد اپنا غلبہ ظاہر کرنا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جشن اور فتح کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

یہ شدت پسند طالبان جنگجوؤں کی ایک معتدل تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے نئے رہنما نے ایک بیان میں قندوز کے لوگوں کو ’مطمئن‘ کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔

سوشل میڈیا کی مدد سے اور اس طرح کے پیغامات سے طالبان لوگوں کو اپنی طاقت کا تاثر دینا چاہتے ہیں لیکن گذشتہ دہائی کی آزادی کے بعد لوگوں کو طالبان کی سوشل میڈیا کی حکمت عملی پر یقین کرنا شاید مشکل لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ٹولو نیوز نامہ نگار صالحہ سعادت نے طالبان کی جانب سے ایک ہسپتال پر محاصرے کی تصاویر شیئر کی

طالبان کی مخالفت بہت زیادہ ہے اس لیے وہ اس طرح کے برتاؤ سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی دشمن نہیں۔

وہ لوگوں کی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے صحافیوں کو اپنی تصاویر بھی کھینچنے دیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تصاویر شائع کی جائں گی۔

یہ تصاویر طالبان کے جذبات ظاہر تو کرتی ہیں لیکن یہ نہیں دکھاتیں کہ وہاں موجود دیگر افراد کے جذبات کیا ہیں۔

طالبان لوگوں کے ساتھ سیلفی تو لے رہے ہیں لیکن یہ ایک ایسا گروہ ہے جو زبردستی شہر پر قبضہ کر کے ہر جگہ خوف، قتل و غارت اور بدنظمی پھیلا رہا ہے۔

شہر سے آنے والی ٹویٹس نے بھی اسی خوف کا اظہار کیا ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ اس کے گھر پر ایک راکٹ داغے جانے کے بعد اس کے خاندان کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption شہر سے لوگوں کی نقل مکانی

شہریوں نے شہر سے اپنی نقل مکانی کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔

بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شہر پر طالبان کا محاصرہ زیادہ دیر تک نہیں ٹکے گا اس لیے وہ اس جیت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

طالبان کا مقصد ایک پرسکون فتح کی تصویر پیش کرنا ہے لیکن مقامی باشندے ایک خوف زدہ شہر کی کہانی بیان کر رہے ہیں اور یہ متضاد مناظر عجیب اور تکلیف دہ ہیں۔

طالبان جو بھی حکمت عملی اختیار کریں لیکن ان کا یہ علامتی قبضہ افغانوں کو صرف ان کی ظالمانہ دور اقتدار کی یاد دلائے گا، جب انھوں افغان خواتین پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندی عائد تھی، خواتین کو سنگسار کیا جاتا تھا اور مردوں کو کوڑے مارے جاتے تھے۔

اسی بارے میں