گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption ہلاک ہونے والے محمد اخلاق ایک فارم پر کام کرتے تھے

بھارتی ریاست اترپردیش میں گریٹر نوئیڈا سے متصل دادری کے علاقے میں گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس واقعے میں ہلاک شدہ شخص کا بیٹا شدید زخمی ہوا ہے۔

نوئیڈا پولیس کے ترجمان کے مطابق بسراڑا گاؤں میں ایسی افواہ پھیل گئی تھی کہ کچھ لوگ گوشت کھا رہے ہیں۔

جس کے بعد لوگوں کی مشتعل بھیڑ نے اخلاق احمد نامی 50 سالہ شخص کے گھر پر دھاوا بول دیا۔

اس حملے میں اخلاق احمد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے 22 سالہ بیٹے کو زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں دس افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جن میں سے چھ کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارت کے بیشتر علاقوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد ہے اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ریاست اترپردیش ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گائے کا گوشت کا استعمال ممنوع ہے۔

اطلاعات کے مطابق اخلاق کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے فریج میں بکرے کا گوشت رکھا ہوا تھا گائے کا نہیں۔

پولیس نے گوشت کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جسے جانچ کے لیے بھیجا گيا ہے۔

ایک سینیئر پولیس اہلکار این پی سنگھ نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا ہے کہ علاقے کے بعض لوگوں نے یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ اخلاق گائے ذبح کرنے میں شامل ہوئے اور ان کے گھر میں گوشت رکھا ہوا ہے۔’بس اسی افواہ کی بنیاد پر ان پر حملہ کر دیا گيا۔‘

کھیتوں میں کام کرنے والے اخلاق دارالحکومت دہلی سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں میں رہتے تھے۔

اخلاق کی اٹھارہ سالہ بیٹی ساجدہ نے اخبار کو بتایا کہ گاؤں کا تقریباً سو افراد پر مشتمل ایک گروپ پیر کی رات کو ان کے مکان پر پہنچا۔

’انھوں نے ہم پر گائے کا گوشت رکھنے کا الزام عائد کیا۔ دروازہ توڑ دیا اور ہمارے والد اور بھائی کو مارنا شروع کر دیا۔ میرے والد کو گھسیٹ کر گھر سے باہر نکال لے گئے اور وہاں اینٹوں سے مارا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ایک مندر سے ہمارے بیف کھانے کے متعلق اعلان کیا گيا تھا۔ فریج میں مٹن تھا جسے پولیس جانچ کے لیے اٹھا کر لے گئی ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق گاؤں والوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس میں گئی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

اسی بارے میں