’افغان ہسپتال پر بمباری ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل ہے‘

قندوز میں ہسپتال پر کی جانی والی امریکی بمباری کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مندوب نے المناک، ناقابلِ معافی اور ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے مندوب زید رعد نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

قندوز کیوں اہم ہے؟

’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘

طالبان کا قندوز پر قبضہ مزید مضبوط ہو گیا

عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسنس سانس فرنٹيئرز (ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز) کا کہنا ہے کہ افغان اور امریکی حکام کو خبردار کیے جانے کے باوجود بھی قندوز میں ان کے ہسپتال پر بمباری تیس منٹ تک جاری رہی جس میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

میڈیسنس سانس فرنٹيئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا تھا کہ افغانستان کے شمالی شہر قندوز کے ہسپتال پر ہونے والی بمباری میں ان کے نو اہلکاروں کے علاوہ سات مریض ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ایک بیان میں ایم ایس ایف نے ’اپنے ہسپتال پر خوفناک بمباری کی سخت ترین الفاظ میں‘ مذمت کی ہے۔

ایم ایس ایف کے مطابق بمباری میں 39 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 19 ان کے کارکن ہیں۔ بمباری کے وقت ہسپتال میں کم از کم ایک سو مریض موجود تھے، لیکن حملے کے بعد ابھی تک مریضوں کی اکثریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ وہ کدھر گئے۔

اس سے قبل سنیچر کی صبح ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ان کا ایک کلینک بمباری کی زد میں آیا جس سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے

دوسری جانب نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فورسز نے قندوز شہر میں مقامی وقت کے مطابق سوا دو بجے صبح ۔۔۔ ان لوگوں کے خلاف حملے کیے جن سے انھیں خطرہ تھا۔‘

اس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں اس کے پاس قائم ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بیان میں کہا: ’قندوز میں قائم ایم ایس ایف کے ٹراما سنٹر پر پے در پے کئی بار بمباری کی گئی جس سے سینٹر کو زبردست نقصان ہوا ہے۔‘

بمباری سے متاثرہ افراد کے آبائی وطن کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے تاہم طبی ادارے کا کہنا ہے کہ انھیں اموات کا مکمل علم نہیں ہے لیکن بمباری کے وقت اس جگہ 105 مریض اور ان کی خدمت میں حاضر افراد کے علاوہ 80 سے زیادہ سٹاف موجود تھے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مرکز پر موجوڈ زیادہ تر سٹاف افغان باشندے ہیں۔

ادارے کے ڈائریکٹر آپرشنز بارٹ جانسینس نے کہا:’ہم ان حملوں پر بہت غمزدہ ہیں کیونکہ اس میں ہمارے سٹاف اور مریضوں کی موت ہوئی ہے اور اس سے ہمارے ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

کابل میں بی بی سی کے ایمل پسارلی کا کہنا ہے کہ قندوز میں ہر رات جنگ ہو رہی ہے اور جہاں ہسپتال تھا وہ علاقہ جمعے اور سنیچر کی شب جنگ کا مرکز تھا۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔

واضح رہے کہ 14 سال بعد پہلی بار کوئی شہر طالبان کے قبضے میں آیا ہے جبکہ نیٹو افغان حکومت کے فوجیوں کو عسکری امداد فراہم کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اسی بارے میں