قندوز کے ہسپتال سے ایم ایس ایف کا عملہ چلا گیا

بین الاقوامی طبی خیراتی تنظیم میڈیسنس سانس فرنٹيئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے اپنا عملہ قندوز میں امریکی بمباری کا نشانہ بننے والے ہسپتال سے واپس بلا لیا ہے۔

اتوار کو اعلی صبح امریکی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ایم ایس ایف کے اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم ایم ایس ایف کے مطابق اس کے ارکان قندوز کے دوسرے شفاخانوں میں مریضوں کا علاج کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چھ روز قبل شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد اب قندوز کا زیادہ حصہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

ہسپتال پر حملے کے نتیجے میں ایم ایس ایف کے 12 ارکان کے علاوہ سات مریض بھی ہلاک ہوئے تھے۔

’افغان ہسپتال پر بمباری ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل ہے‘

قندوز کیوں اہم ہے؟

’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘

طالبان کا قندوز پر قبضہ مزید مضبوط ہو گیا

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے

خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوے تنظیم کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایم ایس ایف کا ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔ تمام شدید زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے اور اب ہمارے ہسپتال میں تنظیم کا کوئی بھی اہلکار موجود نہیں ہے۔‘

اس سے قبل صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان کے شہر قندوز میں ایم ایس ایف کے تحت چلنے والے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والے فضائی حملے کی مکمل تفتیش کر رہا ہے ۔

صدر اوباما نے ’گہرے صدمے‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کی پوری تفصیل حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا: ’وزارت دفاع نے اس واقعے میں مکمل تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ہم کسی مخصوص نتیجے تک پہنچنے سے قبل تفتیش کے نتائج کا انتظار کریں گے کہ آخر اس سانحے کے حالات کیا تھے۔‘

اس سے قبل امریکی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے شہر قندوز کے اس علاقے میں فضائی حملہ کیا جہاں پر میڈیسنس سانس فرنٹيئرز کا ہسپتال تھا جبکہ اقوام متحدہ نے ہسپتال پر امریکی بمباری کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

قندوز میں ہسپتال پر کی جانی والی امریکی بمباری کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مندوب نے المناک، ناقابلِ معافی اور ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے مندوب زید رعد نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption ایم ایس ایف کے مطابق یہ حملہ سنيچر کی شب سوا دو بجے صبح ہوا تھا

عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسنس سانس فرنٹيئرز (ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز) کا کہنا ہے کہ افغان اور امریکی حکام کو خبردار کیے جانے کے باوجود بھی قندوز میں ان کے ہسپتال پر بمباری تیس منٹ تک جاری رہی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے ’امریکی فورسز نے قندوز شہر میں مقامی وقت کے مطابق سوا دو بجے صبح ان لوگوں کے خلاف حملے کیے جن سے انھیں خطرہ تھا۔‘

اس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں اس کے پاس قائم ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اسی بارے میں