بھارت میں پھیلتی فرقہ واریت

Image caption سنہ 1857 سے قبل بھارت کے بیشتر حصے میں کسی قسم کے فرقہ پرست جذبات نہیں تھے

جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں ملک کو شدید منحوس بحران کا سامنا ہے۔ فرقہ واریت کو بعض مفاد پرست عناصر کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے اور فرقہ واریت کا یہ وائرس اب بھارت کے دیہی علاقوں تک پہنچ چکا ہے جبکہ پہلے یہ صرف شہری بھارت میں ہوا کرتا تھا۔

اگر یہ اسی طرح جاری رہا تو آنے والے وقت میں ملک میں بڑے پیمانے پر مذہب کے نام پر بڑا خون خرابہ ہوگا۔

سنہ 1857 سے قبل بھارت کے بیشتر حصوں میں کسی قسم کے فرقہ پرست جذبات نہیں تھے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بعض اختلافات تھے لیکن ان میں کوئی مخاصمت نہیں تھی۔ ہندو عید اور محرم کے تہوار میں شرکت کرتے تھے اور مسلمان ہولی اور دیوالی کے جشن میں شامل ہوتے تھے اور دونوں بھائی بہنوں کی طرح رہتے تھے۔

آخر کس طرح 158 سال کے دوران برصغیر کے دو اکثریتی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اگر دشمنی نہیں تو شک و شبے کو فروغ ملا؟

Image caption مسلمان یہ محسوس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے

بھارت میں آج مسلمان کو روزگار اور کرایے پر مکان حاصل کرنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو پولیس اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے (کیونکہ انھیں سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی تربیت نہیں ہے) نصف درجن مسلمانوں کو پکڑ کر مسئلے کو حل کرتی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر عدالتوں میں بے گناہ ثابت ہو جاتے ہیں لیکن جیل میں کئی سال گزارنے کے بعد۔ مظفر نگر، بلبھ گڑھ اور حال میں دادری میں ہونے والے واقعات اور آدیتیہ ناتھ، سادھوی نرنجن جیوتی، سادھوی پراچی وغیرہ جیسوں کی اشتعال انگیز تقاریر سے بھارت میں مسلمان الگ تھلگ ہوتے جا رہے ہیں اور وہ یہ محسوس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

سنہ 1857 ہندوستان کی تاریخ میں فرقہ وارانہ رشتے کے لحاظ سے حد فاصل ہے۔ اس سے قبل یہاں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں تھا، کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوتے تھے، ہندو اور مسلمان ایک ساتھ صلح آشتی کے ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ باہر سے آنے والے بہت سے مسلمان حکمرانوں نے مندر توڑے، لیکن ان کے جانشین مسلم حکمرانوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو جلا بخشی۔ انھوں نے ایسا ہندو اکثریت کے پیشں نظر اپنے مفاد کے تحت کیا اور اس طرح مغلوں، اودھ، مرشد آباد یا آرکٹ کے نوابوں، ٹیپو سلطان یا نظام حیدرآباد تمام مسلم حکمرانوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

Image caption سنہ 1857 کے بعد برطانوی حکمرانوں نے دانستہ طور پر ہندو اور مسلمان کے درمیان نفرت پھیلانے کی پالیسی اپنائی

سنہ 1857 میں بغاوت پھوٹ پڑی اور ہندو اور مسلمان دونوں نے برطانیہ کے خلاف جنگ کی۔ بغاوت کو کچلنے کے بعد انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ بھارت کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ ’تقسیم کرو اور راج کرو‘ ہے۔

ہندوستان کے لیے وزیر خارجہ سر چارلس ووڈ نے وائس رائے لارڈ الجن کو سنہ 1862 میں ایک خط لکھا کہ ’ہم نے بھارت میں اپنا اقتدار ایک برادری کو دوسری برادری کے خلاف کھڑا کر کے قائم رکھا ہے اور ہمیں اسے جاری رکھنا چاہیے۔ اس لیے ان کو ایک متحد احساس سے باز رکھنے کے لیے آپ جو کچھ کر سکتے ہیں کریں۔‘

جنوری 14 سنہ 1887 کےایک خط میں وزیر خارجہ وسکاؤنٹ کراس نے گورنر جنرل ڈفرن کو لکھا: ’مذہبی احساس کی تقسیم ہمارے مفاد میں ہے اور ہم ہندوستانی تعلیم اور تعلیمی مواد پر آپ کی تفتیشی کمیٹی سے اچھے نتائج کی امید کرتے ہیں۔‘

اسی طرح وزیر خارجہ جارج ہیملٹن نے گورنر جنرل لارڈ کرزن کو لکھا: ’اگر ہم ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو دو حصوں ہندو اور مسلمان میں تقسیم کر سکتے ہیں تو اس سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگی۔۔۔ ہمیں درسی کتب کو اس طرح تیار کرنا چاہیے کہ دونوں مذاہب کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو۔‘

اس طرح سنہ 1857 کے بعد برطانوی حکمرانوں نے دانستہ طور پر ہندوؤں اور مسلمان کے درمیان نفرت پھیلانے کی پالیسی اپنائی اور اس پر کئی طرح سے عمل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جب بھی کبھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو پولیس اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے نصف درجن مسلمانوں کو پکڑ کر مسئلے کو حل کرتی ہے

1۔ مذہبی رہنماؤں کو دوسرے مذہب کے خلاف بولنے کے لیے رشوت دی گئی۔ انگریز کلکٹر خفیہ طور پر پنڈتوں کو بلا کر مسلمانوں کے خلاف بولنے کے لیے پیسے دیتے اور اسی طرح مولویوں کو ہندوؤں کے خلاف تقاریر کرنے کے لیے پیسے دیے جاتے۔

2۔ مسجد کے سامنے نماز کے وقت اشتعال پھیلانے والے ایجنٹوں کے ذریعے زور و شور سے موسیقی بجوائی جاتی یا پھر مندروں کے سامنے گائے کے گوشت پھنکوائے جاتے اور دیواروں پر اللہ اکبر کے نعرے لکھوائے جاتے۔

3۔ تاریخ کی کتابوں میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے لیے رد و بدل کیا گیا۔ دانستہ طور پر فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے۔ سنہ 1909 کے منٹو مورلی اصلاحات نے ہندو اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ رائے دہندگی قائم کی۔

4۔ ہندی کو ہندؤں اور اردو کو مسلمانوں کی زبان کا پروپیگنڈا کرایا گیا حالانکہ سنہ 1947 تک اردو ہندوستان کے بڑے خطے میں ہر تعلیم یافتہ ہندو، مسلمان اورسکھ کی زبان ہوا کرتی تھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی قائم کی گئی۔

یہی فرقہ واریت سنہ 1947 کے بعد بھی جاری رہی اور حالیہ دنوں میں اس نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستانی اس مفادپرست کے مذموم کھیل کو سمجھیں۔

اسی بارے میں