’قندوز میں ہسپتال پر بمباری افغان فوج کی درخواست پر کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے عملے کے 12 ارکان اور دس مریض ہلاک ہوئے تھے

امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل نے کہا ہے کہ افغان شہر قندوز میں عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ہسپتال پر بمباری افغان فوج کی درخواست پر کی گئی تھی۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل کیمبل کا یہ تازہ بیان امریکی فوج کے اس بیان کی نفی کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جب امریکی طیاروں نے کارروائی کی تو طالبان شدت پسند امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔

’بیان نفرت انگیز، جنگی جرائم کے اعتراف کے مترادف ہے‘

قندوز کے ہسپتال سے ایم ایس ایف کا عملہ چلا گیا

’افغان ہسپتال پر بمباری ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل ہے‘

’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے قندوز میں تنظیم کے ہسپتال پر فضائی کارروائی کا دفاع کیا جانا نفرت انگیز اور جنگی جرائم کے اقبال کے مترادف ہے۔

جنرل کیمبل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تین اکتوبر کو افغان افواج نے مطلع کیا تھا کہ ان پر دشمن کی پوزیشنوں سے فائرنگ کی جا رہی ہے اور انھیں امریکی فضائیہ کی مدد درکار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس پر طالبان کا خطرہ ختم کرنے کے لیے فضائی حملے کا حکم دیا گیا اور کئی عام شہریوں کا نشانہ بننا ایک حادثہ تھا۔‘

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایم ایس ایف کے جنرل ڈائریکٹر کرسٹوفر سٹوکس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی حرکت کی ذمہ داری افغان حکومت پر ڈال رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ بم امریکہ نے گرائے۔۔۔امریکی فوج ہی ان اہداف کے لیے ذمہ دار ہے جنھیں وہ نشانہ بناتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل کیمبل نے اپنے بیان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کیا

اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کرسٹوفر سٹوکس نے کہا کہ امریکی اور افغان حکام کے بیانات میں تضاد ہی ایک غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا متقاضی ہے۔‘

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے گا۔

جنرل کیمبل نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ بمباری ایک جنگی سی 130 طیارے نے کی تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی اور یہ کہا کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ انھیں دو سے تین دن میں ملے گی۔

اسی بارے میں