قندوز: ’بیان نفرت انگیز، جنگی جرائم کے اعتراف کے مترادف ہے‘

Image caption ایم ایس ایف کا ہسپتال بند ہے اور تمام شدید زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے

بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ قندوز میں تنظیم کے ہسپتال پر فضائی کارروائی پر افغان حکومت کا بیان نفرت انگیز ہے اور جنگی جرائم کے اقبال کے مترادف ہے۔

ایم ایس ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان حکومت کا بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ امریکی اور افغان فورسز نے ہسپتال پر بمباری کرنے کا فیصلہ ان اطلاعات پر کیا تھا کہ طالبان جنگجو ہسپتال میں موجود ہیں۔

قندوز کے ہسپتال سے ایم ایس ایف کا عملہ چلا گیا

’افغان ہسپتال پر بمباری ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل ہے‘

قندوز کیوں اہم ہے؟

’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘

یاد رہے کہ قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر فضائی کارروائی کے نتیجے میں ایم ایس ایف کے سٹاف سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔

ہفتے کو افغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’مسلح شدت پسند‘ ہسپتال سے افغان فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ’اس بیان سے اشارے ملتے ہیں کہ افغان اور امریکی فورسز نے اکٹھے یہ فیصلہ کیا کہ فعال ہسپتال کو تباہ کر دیا جائے جس میں 180 سٹاف اور مریض موجود تھے کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ہسپتال میں طالبان موجود تھے۔ یہ بیان جنگی جرائم کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے اس کارروائی کو ’’کولیٹرل ڈیمج‘‘ قرار دیے جانے کی نفی کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے

ایم ایس ایف نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا: ’ہسپتال کو بار بار فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے ملحقہ احاطے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ہمارے سٹاف میں سے کسی نے بھی ان فضائی کارروائیوں سے قبل ہسپتال کے احاطے کے اندر لڑائی کی خبر نہیں دی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption ایم ایس ایف کے مطابق یہ حملہ سنيچر کی شب سوا دو بجے صبح ہوا تھا

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چھ روز قبل شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد اب قندوز کا زیادہ حصہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایم ایس ایف کی ترجمان نے کہا کہ ’ایم ایس ایف کا ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔ تمام شدید زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے اور اب ہمارے ہسپتال میں تنظیم کا کوئی بھی اہلکار موجود نہیں ہے۔‘

اس سے قبل صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ قندوز میں ایم ایس ایف کے تحت چلنے والے ہسپتال پر فضائی حملے کی مکمل تفتیش کر رہا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

صدر اوباما نے ’گہرے صدمے‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کی پوری تفصیل حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا: ’وزارت دفاع نے اس واقعے میں مکمل تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ہم کسی مخصوص نتیجے تک پہنچنے سے قبل تفتیش کے نتائج کا انتظار کریں گے کہ آخر اس سانحے کے حالات کیا تھے۔‘

قندوز میں ہسپتال پر کی جانے والی امریکی بمباری کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مندوب نے المناک، ناقابلِ معافی اور ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے مندوب زید رعد نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اسی بارے میں