ریاستی حکومت کی رپورٹ میں ’گائے کے گوشت‘ کا ذکر نہیں

اخلاق احمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخلاق احمد کو ایک ہجوم نے ان کے گھر پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا

بھارت کی ریاست اتر پردیش کی حکومت نے گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کر دی ہے۔

اتر پردیش کے علاقے دادری کے ایک گاؤں میں 52 سالہ اخلاق احمد کے گھر پر مشتعل بھیڑ نے دھاوا بل کر انہیں مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے میں ہلاک شدہ شخص کا بیٹا شدید زخمی ہوا تھا۔

بھارت کے بیشتر علاقوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد ہے اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ریاست اترپردیش ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گائے کے گوشت کا استعمال ممنوع ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق رپورٹ میں اخلاق احمد کے قتل کی وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق رپورٹ میں ’گوشت یا گائے‘ کے الفاظ استعمال کیے بغیر کہا گیا ہے کہ ایسے الزامات ہیں کہ اس شخص کو ایک ’جانور کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے جس کی قربانی پر پابندی‘ ہے۔

ریاستی حکومت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کی تحقیقات جاری ہیں اور وہ ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔

پیر کی رات وزارت داخلہ کو بھیجی گئی اس رپورٹ میں ان سیاسی شخصیات کے ناموں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہوں نے اخلاق احمد کی فیملی سے ملاقات کہ اور ان کے ناموں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو بسادا نامی گاؤں تو گئے لیکن مقتول کے خاندان والوں سے ملاقات نہیں کی۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے کے مطابق وزارت داخلہ نے ایک بیان میں ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات سے سختی سے نمٹیں۔

اخبار کے مطابق وزارت داخلہ نے ریاستوں سے کہا ہے کہ ’ملک کی سیکولر روایات کو کمزور کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔‘

اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں ریاستی حکومت نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھانے کے علاوہ مقتول کے خاندان کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں