ماؤ باغیوں نے تین سیاستدان اغوا کر لیے

ماؤ باغی تربیت کے دوران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماؤ نواز باغیوں کو انڈیا کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ قرار دیا جاتا ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں ماؤ نواز باغیوں نےحکمران جماعت کے تین سیاستدانوں کو اغوا کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ سیاستدان باغیوں سے بات چیت کے لیے ملنے گئے تھے۔

شبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریاست میں باکسائٹ کی کان کنی کے خلاف احتجاج کے طور پر ان افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔

ماؤ نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ کمیونسٹ حکومت کے قیام اور قبائلی اور دیہی علاقوں کے غریب افراد کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

باغیوں نے 60 کی دہائی میں مغربی بنگال سے اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اخبار دی ہندو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اغوا کے اس واقعے سے پہلے باغیوں نے ریاستی حکومت کو خط لکھا تھا جس میں باکسائٹ کی کان کنی کے منصوبے کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی باغیوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی ایس پی پروین نے بتایا کہ ’ہم نے (معلومات کی) تصدیق کی ہے۔ ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے یہی ممکن ہے کہ وہ انھیں ضلع مشرقی گوداوری کی سرحد کی جانب گھنے جنگل میں لے جائیں۔ ہم ماؤ باغیوں کی جانب سے (ان رہنماؤں کو چھوڑنے کے لیے) مطالبات کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’باغیوں کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد ہی یہ رہنما ان سے ملاقات کے لیے گئے تھے کہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن اب انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں