’قندوز میں ہسپتال پر امریکی بمباری ایک غلطی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر اور امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل نے کہا ہے کہ افغان شہر قندوز میں عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ہسپتال پر بمباری ایک ’غلطی‘ تھی۔

انھوں نے کہا ہے کہ امریکی فوج کبھی بھی دانستہ طور پر ایک محفوظ ہسپتال کو نشانہ نہیں بناتی۔

’قندوز میں حملہ افغان فوج کی درخواست پر کیا گیا‘

’بیان نفرت انگیز، جنگی جرائم کے اعتراف کے مترادف ہے‘

جنرل کیمبل نے یہ بات منگل کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔

اس سے قبل گذشتہ روز انھوں نے کہا تھا کہ ہسپتال پر بمباری افغان فوج کی درخواست پر کی گئی تھی اور یہ بیان امریکی فوج کے اس ابتدائی بیان کی نفی تھا جس کے مطابق جب امریکی طیاروں نے کارروائی کی تو طالبان شدت پسند امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنرل کیمبل نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو سنہ 2016 کے بعد بھی افغانستان میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافے پر غور کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق افغانستان میں ’سکیورٹی کی مخدوش صورتحال‘ اس بات کی متقاضی ہے کہ وہاں تعینات فوج میں کمی کی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کی جائے۔

ادھر امریکی صدر کے دفتر نے کہا ہے کہ قندوز کے واقعے کی تحقیقات امریکی محکمۂ انصاف کرے گا۔

محکمۂ انصاف کے علاوہ محکمۂ دفاع، نیٹو اور امریکہ اور افغانستان کی مشترکہ ٹیم بھی اپنے تئیں ہسپتال پر بمباری کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی صدر جوان لیو نے تنظیم کے ہسپتال پر فضائی کارروائی کے بارے میں امریکی توجیح کو مسترد کر دیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جب تک اس کے برعکس ثابت نہیں ہوتاہم اسے جنگی جرم ہی سمجھیں گے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے حملے کے فوراً بعد افغان اور اتحادی افواج کی قیادت کو مطلع کیا گیا لیکن بمباری مزید آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔

جوان لیو کے مطابق ’اس حملے کو ایک غلطی یا جنگ کا ناگزیر نتیجہ کہہ کر ایک طرف نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی بارے میں