مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس

Image caption مصنفہ نین تارا سہگل بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی بھانجی ہیں

اہم اور معروف بھارتی مصنفوں نے ملک میں ’تنوع اور بحث و مباحثے پر بدنیت ساتھ حملے‘ کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے باوقار ادبی ایوارڈ واپس کر دیے ہیں۔

88 سالہ مصنفہ نین تارا سہگل کو سنہ 1986 میں باوقار ادبی ایوارڈ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جسے انھوں نے واپس کر دیا ہے۔

ان کے علاوہ ہندی کے معروف شاعر اشوک واجپئی نے بھی اپنا ایوارڈ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا ہے کہ حکومت ’عوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔‘

دونوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت ہندو شدت پسندوں کو اقلیتوں اور مصنفوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کر رہی ہے۔

سہگل نے ایک بیان بعنوان ’ان میکنگ آف انڈیا‘ میں گذشتہ ہفتے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے ساتھ ایم ایم کالبرگ، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کا ذکر کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام مذہبی برادریوں کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے لیکن انھوں نے ابھی تک ان حالیہ حملوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

Image caption اشوک واجپئی نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’حقوق کی پامالی کو فروغ دے رہی ہے‘

اپنے بیان میں نین تارا سہگل نے لکھا: ’وزیر اعظم نے دہشت کے اس راج پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ان شر پسندوں کو الگ کرنے کی ہمت نہیں ہے جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بھارت کی تنوع اور بحث و مباحثے کی تہذیب و ثقافت اب مذموم حملے کی زد میں ہے۔‘

بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا نے کہا: ’جو بھی توہمات پر سوال کرتا ہے، جو بھی ہندو مذہب کی بدصورت اور خطرناک تبدیلیوں کی کسی بھی جہت پر سوال کرتا ہے انھیں الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے، ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر قتل کر دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے این ڈی ٹی وی چینل کو بتایا مودی کے دور حکومت میں ’ہم پیچھے پسماندگی کی جانب اور ہندوتوا کی جانب جا رہے ہیں۔ کٹر پن میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے بھارتی خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘

اشوک واجپئی نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’حقوق کی پامالی کو فروغ دے رہی ہے۔‘

انھوں نے بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’یہ ایک پریشان کن رجحان ہے۔ اس سے عدالت کے ماورا ایجنسیوں کو اپنی من مانی کی اجازت دیتا ہے جبکہ اپنے شہریوں اور مصنفوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

اسی بارے میں