240 ڈالر کے جھینگوں پرگاہک برہم

Image caption چینی سوشل میڈیا پر ریستوران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

چینی شہر چنگ ڈاؤ میں ایک گاہک یہ کہہ کر ریستوران چھوڑ کر چلے گئے کہ ان سے جھینگوں کے لیے اضافی رقم وصول کی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق گاہک ژو نے رات کے کھانے کے لیے جھینگوں کی ایک ڈش کا آرڈر دیا تھا جن کی قیمت مینیو کارڈ میں 38 یوان (چھ ڈالر) درج تھی۔ لیکن گاہک کو بعد میں بتایا گیا کہ مینیو میں درج قیمت پوری ڈش کی نہیں بلکہ صرف ایک جھینگے کی ہے اس لیے ان سے 1520 یوان (240 ڈالر) کی رقم ادا کرنے کا کہا گیا۔

چینی سوشل میڈیا پر ریستوران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نانجنگ سے تعلق رکھنے والے ژو اپنے خاندان کے ہمراہ چھٹیاں منانے چنگ ڈاؤ آئے ہوئے تھے۔ اتوار کو وہ اپنے بال بچوں کے ہمراہ تازہ سمندری غذا اور باربی کیو کی ڈشز بنانے والے ایک ریستوران میںآئے۔

ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے ریستوران کے مینیو کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ فہرست میں ’سمندر سے پکڑے گئے بڑے جھینگوں‘ کی قیمت 38 یوآن درج ہے۔ ژو کے مطابق انھوں نے مذکورہ ڈش کا آرڈر دیا اور انھیں لہسن کا تڑکا لگے 40 جھینگوں کی ایک پلیٹ پیش کی گئی۔

جب کھانے کا بل لایا گیا تو وہ 2700 یوان تھا جس میں دیگر کھانوں کی قیمت بھی شامل تھی۔

ژو کے مطابق ریستوران کے مالک نے دھونس کے انداز میں مینیو کارڈ کی فہرست میں نچلی لائن پر انگلی رکھی جہاں لکھا تھا کہ ’اس فہرست میں فی ڈش کے حساب سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔‘

ژو نے ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق اس پر ریستوران کے مالک نے چھڑی نکالی اور انھیں مارنے کی دھمکی دی۔ جس کے بعد پولیس کو بلا لیا گیا اور گفت و شنید کے بعد ژو نے 2000 یوان کا بل ادا کیا۔

ریستوران کا نام نہ لیتے ہوئے ریستوران کے مالک نے بیجنگ یوتھ ڈیلی اخبار کو بتایا کہ وہ اتنی زیادہ قیمت اس لیے وصول کرتے ہیں کیوں کہ اُن کے ہاں تازہ جھینگے دستیاب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں