کیا بھارت اب بھی امداد کا مستحق ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانوی امداد نے بھارتی خواتین کو معاشرے میں اچھا مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے

کئی سالوں سے بھارت برطانیہ کی جانب سے بیرون ملک بھیجے جانے والی امداد کا بڑا وصول کنندہ ہے لیکن اب نہیں، کیونکہ برطانیہ اِس سال سے بھارت کو دی جانے والی امداد بند کر دے گا۔

اِس بارے میں سرکاری موقف یہ ہے کہ بھارت میں گذشتہ دہائی میں تیز فتار ترقی کے اسے برطانیہ کی امداد کی ضرورت نہیں ہے، البتہ کچھ ’تکنیکی امداد‘ جاری رہے گی۔

ادارہ برائے عالمی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کا کہنا ہے کہ اب توجہ امداد پر نہیں تجارت پر دی جائے گی۔

میں نے مزید جاننے کے لیے بہار میں ایک گاؤں کا دورہ کیا۔

برطانیہ سے زیادہ ارب پتی

امداد ختم کرنے کا فیصلہ برطانوی قدامت پسند ارکان پارلیمان کے گروپ کی فتح ہو گی جن کا موقف تھا کہ ایسی صورتِ حال میں بھارت کو امداد دینا کسی طرح سے منصفانہ نہیں ہے، جب ملک کےاندر بچت کے نام پر مختلف اخراجات کو ڈرامائی انداز میں کم کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کیوں کسی ایسے ملک میں غریبوں کی امداد کریں جس نے حال ہی میں مریخ پر مشن بھیجا ہو، جہاں برطانیہ سے زیادہ ارب پتی ہوں۔ جو خود ضرورت مند قوموں کو کروڑوں پاؤنڈ امداد دے رہا ہو۔

اور یہ صرف برطانوی ہی نہیں ہیں جو بھارت میں فلاح و بہبود کی کوششوں میں رقم خرچ کرنے کے بارے غیر مطمئن ہیں بلکہ کچھ بھارتی سیاست دان بھی اِس بارے میں نالاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں برطانیہ سے زیادہ ارب پتی بستے ہیں

بھارت کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک ملک جو اقوام متحدہ میں اعلیٰ میز پر بیٹھنے جا رہا ہو، ایک ملک جو جی ٹوئنٹی (G20) کا حصہ ہو، ایک ملک جو برکس بینک میں حصہ دار ہو۔ میرے خیال میں امداد وصول کرنے والا کہلانا تھوڑا تکلیف دہ ہے۔‘

تو امداد دینے کے لیے کیا دلیل ہے؟

’خوفناک غربت‘

بھارت میں سیو دا چلڈرن کی ترجمان بِدیشا پلائی کا کہنا ہے کہ اِس کا جواب سادہ ہے: یہاں اب بھی خوفناک غربت ہے۔

بھارت کی معیشت شاید سات فیصد کے اضافے سےآگے بڑھ رہی ہو اور اب بھارت سرکاری طور پر درمیانی آمدنی کی قوم بن جائے لیکن بھارت اب بھی دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں غریب عوام کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً 30 کروڑ بھارتی شہریوں کی یومیہ آمدنی 1.25 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔

یہاں اب بھی غذائی قلت کی سطح بلند ہے اور دنیا میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی کل تعداد کے 40 فیصد بھارت میں بستے ہیں۔

یہاں اب بھی بچوں کی شرح اموات المناک حد تک زیادہ ہے۔ بھارت میں ہر سال 13 لاکھ بچے دست، نمونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔

لیکن اِن اعداد و شمار سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ کس طرح بھارت کو دی جانے والی 20 کروڑ پاؤنڈ کی امداد میں فرق کرے گا جب بھارت خود سے 70 ارب پاؤنڈ فلاح و بہبود پر خرچ کر رہا ہے؟

بھارت کے صدر ایک بار کھلے عام برطانوی امداد کو مونگ پھلی کے دانے کے برابر کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔

پلائی کے پاس اِس کا بھی جواب ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بیرونی امداد کا کردار کس طرح بدل گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانوی امداد بھارت کے ویلفیئر بجٹ کو بہتر انداز میں خرچ کرنے میں مددگار ہوتی ہے

اُن کا کہنا ہے کہ اِن دنوں امداد دینا اُس رقم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے جو بھارت پہلے ہی خرچ کر رہا ہے۔

میں نے بھارت کی سب سے پسماندہ ریاست بہار میں مسلم علاقوں اور اچھوتوں کے علاقوں کا دورہ کیا جن کو آج کل دلت بھی کہا جاتا ہے۔

پیسہ جاتا کہاں ہے؟

ہم بہار شریف کے ایک چھوٹے سے قصبے کی الجھی ہوئی گلیوں کے داخل ہوئے جہاں 30 خواتین جن میں سے زیادہ تر بچوں کے ساتھ تھیں، ہم سے ملنے کے لیے جمع تھیں۔

ایک کونے میں سوکھے ہوئے گوبر کا ڈھیر لگا تھا۔ جس کا استعمال کھانے پکانے کے ایندھن اور سردیوں میں گھر کو گرم رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ایک عورت نے مقامی طور پر ایک این جی او بنا رکھی ہے جس کو ’ غریب ترین علاقوں میں سول سوسائٹی پروگرام‘ (پی اے سی ایس) کا نام دیا ہے۔ اِس این جی او کو برطانوی حکومت کی جانب سے امداد ملتی ہے۔

اِس منصوبے کی روح و رواں آرتی ورما کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصد اِن خواتین اور پورے ملک میں اِس طرح کی دوسری لاکھوں خواتین تک پیسے اور وہ خدمات فراہم کرنا ہے جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’بنیادی طور پر ہم پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ہم اُن کو صحت، تعلیم اور ذریعہ معاش کے استحقاق اور حقوق کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔‘

اِس کا اہم مقصد یہ ہے کہ یہ خواتیں اپنے بچوں کو ہسپتالوں میں پیدا کریں جہاں زچہ و بچہ کے لیے بہتر سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔ جب تک حال ہی میں چند لوگوں نے یہ نہیں کیا تھا یہ تشویشناک تھا، کیونکہ ذات اور مذہب کی بنیاد پر اِن کو ہسپتالوں میں امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

ایک خاتون فرزانہ نے مجھے بتایا کہ اِس گروپ میں شامل ہونے سے پہلے اُنھوں نے دو بچوں کو گھر پر جنم دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں 30 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں

فرزانہ نے فخر سے بتایا کہ جب میرا تیسرے بچے کی پیدائش کا وقت تھا میں سیدھی گئی اور اپنا حق مانگا۔

مس روما کا کہنا تھا کہ رویوں میں اِس طرح کی تبدیلی سے خواتین اور اُن کے بچوں کی صحت میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل زچگیوں کے دوران اور نومولود بچوں میں اموات کی شرح بہت زیادہ تھی۔‘

ڈی ایف آئی ڈی کا کہنا ہے اِس منصوبے میں 60 ہزار خواتین مددگار گروپس میں کام کیاگیا ہے بالکل بہار کے اِس گروپ کی طرح اور برطانیہ کی مدد سے چلنے والے ایسے منصوبوں میں بھارت میں 90 لاکھ خواتین پر کام کیا گیا ہے۔

پلائی کا کہنا ہے کہ ’برطانوی امداد حکومت کے ساتھ مل کر کیا کام کرتی ہے کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بھارت کی حکومت ترقی پر خرچ کرنے والی رقم کا استعمال بہترین انداز میں کرے اور یہ زیادہ موثر ہو، تو منصوبوں کا معیار بہتر ہوگا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ برطانوی امداد بند ہونے کا اثر فوری طور پر محسوس نہ کیا جائے لیکن یہ آئندہ پانچ سالوں یا اُس کے بعد کی طویل مدت میں اِس کا فرق نظر آئے گا۔

برطانیہ اور بھارت کو باہمی امداد کا خیال فرسودہ لگے لیکن یہاں بھارت میں غربت بہت زیادہ ہے۔ سیو دا چلڈرن اور دیگر این جی اوز کا کہنا ہے کہ اُن کا یہاں کام بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں