وزیر کا کتا تمام الزامات سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سومناتھ بھارتی کی اہلیہ نےالزام عائد کیا تھا کہ ’ڈان‘ اپنے مالک کی ایما پر انھیں کاٹنا چاہتا تھا

ایک بھارتی عدالت نے دلی کے سابق وزیر کے ڈان نامی پالتو پالتو کتے پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

سابق وزیرسومناتھ بھارتی کی اہلیہ نے گھریلو تشدد کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ڈان اپنے مالک کی ایما پر اُنھیں کاٹنا چاہتا تھا۔

الزامات لگنے کے بعد جب ڈان نامی کتا سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے ہمراہ ’لاپتہ‘ ہوا تو میڈیا میں قیاس آرائیوں کا موضوع بن گیا۔

عدالت نے ڈان کے خلاف الزامات کو اس وقت مسترد کر دیا جب اس نے سابق وزیر بھارتی کی جانب سے حملہ کرنے کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دہلی کی عدالت کے جج نے ایک پولیس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کتا ’ڈان ادھر آؤ، ڈان بھونکو، ڈان کاٹو، ڈان بیٹھ جاؤ‘ جیسے احکامات کی پیروی نہیں کر رہا تھا۔

ڈان کے احکامات کی پیروی سے انکار نے بدھ کے روز اس کے مالک کو بھی ضمانت دلوا دی۔

35 کلو گرام کے زائد وزن اور سست طبیعت رکھنے والا12 سالہ لیبراڈور اس وقت پولیس کی تلاش اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب کیس کی تحقیقات کا آغاز ہونے کے فوراً بعد وہ اپنے مالک کے ساتھ ’لاپتہ‘ ہو گیا۔

بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ سابق وزیر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہونے سے قبل ڈان کو جنوبی دہلی میں موجود اپنے دفتر میں چھوڑ گئے تھے۔ سابق وزیر نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے دو ہفتے بعد عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا۔

اطلاعات کے مطابق دفتر کے ملازمین نے پولیس کو بتایا کہ ’ڈان زیادہ تر کھاتا اور سوتا رہتا تھا اور جب ایئر کنڈیشنر بند کر دیا جاتا تو وہ بھونکنے لگتا۔‘

ٹیلی گراف اخبار نے جب بھارتی کے پڑوسیوں سے بات چیت کی تو تمام لوگوں نے ڈان کو بے ضرر قرار دیا۔

پولیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ ڈان (کتے) کو دل کی بیماری ہے اور اس کی دوائیں سابق وزیر بھارتی کے دفتر میں بند ہیں تو اسے طبی امداد کے لیے لے جایا گیا۔

اسی بارے میں