ملازمہ کا ہاتھ کاٹنے پر بھارت کا سعودی عرب سے احتجاج

Image caption منی رتھینم گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں جن کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے سعودی مالک ان کے ساتھ زیادتی کیا کرتے تھے

بھارت کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں 58 سالہ بھارتی خاتون پر بیہیمانہ حملے کا معاملہ سعودی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق کستوری منی رتھینم نامی خاتون کے مالک نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا جب انھوں نے مالک کی ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر ان کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

محترمہ منی رتھینم گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں جن کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے سعودی مالک اُن کے ساتھ زیادتی کیا کرتے تھے۔

وزیر خارجہ سشما سوارج کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو سعودی حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔

انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ’بھارتی خاتون کہ ہاتھ کاٹنا- بھارتی خاتون کے ساتھ جس طرح کا بہیمانہ سلوک کیا گيا اس سے ہمیں بڑی پریشانی ہوئی ہے۔ یہ قطعی طور نا قابل قبول ہے۔ ہم نے اس معاملے پر سعودی حکام سے بات چیت کی ہے۔ ہمارا سفارت خانہ متاثرہ خاتون سے رابطے میں ہے۔‘

بھارت کے جنوبی شہر چینئی میں منی رتھینم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے مالک کے خلاف مقامی حکام سے حراساں کرنے کی شکایت کی تھی جس سے وہ ناراض ہو گيا تھا۔ انھوں نے تین ماہ قبل ہی کام شروع کیا تھا۔

ان کی ایک بہن نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہیں مالک کھانا تک نہیں دیتا تھا۔ ’جب انھوں نے زیادتیوں اور ٹارچر سے فرار ہونے کی کوشش کی تو ان کی مالکن نے دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ وہ گر پڑیں جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر سنگین زخم آئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کو ریاض کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جن کی حالت خطرے میں ہے۔

اہل خانہ کے مطابق واقعے کے بارے میں معلومات انھیں ایجنٹ کے ذریعے ہوا جس کے ذریعے وہ بیرون ملک منتقل ہوئی تھیں۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ انھیں موبائل پر ریکارڈ کیا گيا ایک ویڈیو پیغام بھی ملا ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ کا کہنا ہے کہ بھارت متاثرہ فرد کے انصاف کے لیے کوشش کرتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا ’ریاض میں ہمارے سفارت خانے نے اس بارے میں سعودی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور سپانسر کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی اور سزا کا مطالبہ کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ بھارت نے اس معاملے کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور ملزم کے ’خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ اگر وہ قصور وار پایا جائے تو قانون کے مطابق اسے سخت سزا مل سکے۔‘

اسی بارے میں