بہار میں بی جے پی کی گاڑی سے سنکھ اور اذان ساتھ ساتھ

Image caption بہار میں بی جے پی کے پرچار کے سُر بدل گئے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے بیگو سرائے ضلعے میں جمعہ کی صبح لوگ اس وقت حیران ہوگئے جب پاس سے گزرنے والی ایک جیپ سے اذان کی آواز سنائی دی۔ جب لوگوں نے مڑ کر دیکھا تو اس جیپ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پرچم لگے ہوئے تھے۔

یہ تو سمجھ میں آ گیا کہ یہ انتخابی مہم میں شامل گاڑی ہے لیکن جب یہ پتہ چلا کہ یہ بی جے پی کی پرچار گاڑی ہے تو لوگوں کی حیرت مزید بڑھ گئی۔

جمعرات کو بہار کے نوادہ انتخابی حلقے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی ریلی میں دارالحکومت دہلی سے ملحق دادری معاملے پر پہلی بار اپنی زبان کھولی تھی اور اس کے بعد پارٹی کی تشہیر کے سُر ہی بدل گئے۔

گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل

اس کے بعد نہ تو ساکشی مہاراج، نہ گری راج سنگھ اور نہ ہی یوگی آدتیہ ناتھ (شعلہ بیان ہندو رہنماؤں) کے بیان سنائی دیے۔

انتخابی مہم میں شامل پارٹی کی گاڑی سے سنکھ اور اذان دونوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ گیتا کی بات بھی ہو رہی ہے اور قرآن کی بات ہو رہی ہے۔

مودی کے بیان کا اثر

Image caption یہ تبدیلی وزیر اعظم مودی کےگذشتہ روز کے بیان کا نتیجہ ہے

یہ سب کچھ صرف ایک دن میں ہی ہو گیا۔ نوادہ انتخابی ریلی میں مودی نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے آپس میں لڑنے کے بجائے غربت سے لڑنے کی اپیل کی تھی۔

مودی نے نوادہ سے پہلے مونگیر اور بیگوسرائے میں ہونے والے عوامی جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین پر شدید حملے کیے تھے۔

خیال رہے کہ اس بارے میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کا بیان رنگ لایا اور کئی دنوں سے بہار میں جاری سیاسی بیان بازی پر وزیر اعظم نے اپنی خاموشی توڑی۔

مودی کے بیان کا فوری اثر کارکنوں پر بھی نظر آنے لگا۔ ایسا لگا کہ سب کچھ اچانک تبدیل کر دیا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مودی نے آپس میں لڑنے کی بجائے غربت سے لڑنے کی تلقین کی

بی جے پی کے کارکن شيام نندن سنگھ اسی تشہیر والی گاڑی پر سوار تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوا؟

ان کا جواب تھا: ’سنا نہیں، مودی جی نے کل نوادہ میں کیا کہا ؟ آج سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ غریب کا کوئی مذہب ہوتا ہے کیا؟ غریبی کے خلاف لڑنا ہے۔ سب مل جل کر مقابلہ کریں گے۔‘

سیاسی تجزیہ نگار اچانک آنے والی اس تبدیلی سے حیرت زدہ ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم پر صدر کے بیان کا ہی اثر ہوا ہو!

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نتیش کمار کے اس ٹویٹ کا اثر ہوا ہو، جس میں انھوں نے مودی کو راج دھرم کی بات یاد دلائی تھی۔

وجہ جو بھی ہو بی جے پی کی انتخابی مہم کی گاڑیوں سے اب محبت کے پیغام سنائی دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں