مودی لالو سے کیوں گھبرا رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی کی پوری کابینہ، پچاسوں ارکان پارلیمان اور آر ایس ایس کے ہزاروں کارکن بہار کے انتخابی میدان میں دن رات سرگرم ہیں

بھارت کی ریاست بہار میں اسمبلی انتحابات کے پہلے مرحلے میں 12 اکتوبر یعنی پیر کے روز ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ریاستی اسمبلی کے ان انتخابات میں ایک طرف لالویادو اور نتیش کمار کی جماعت اور کانگریس ہے تو دوسری جانب بی جے پی اور لالو اور نتیش کے پرانے ساتھی رام ولاس پاسوان اور جیتن رام مانجھی کی جماعتیں ہیں۔

بہار بھارت کی سب سے پسماندہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں غربت اور پسماندگی کا ایک بڑا سبب ذات پات پات کی سیاست رہی ہے۔

کیا بہار مودی کی یلغار کو روک سکے گا؟

بہار میں بی جے پی کی گاڑی سے سنکھ اور اذان ساتھ ساتھ

بہار میں غالب اکثریت پسماندہ ذاتوں کی ہے لیکن ریاست کے وسائل، سیاست اور معیشت پر اعلیٰ ذاتوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ بہار کے جاگیردارانہ نظام کو سیاسی سطح پر پہلی بار لالو پرساد یادو نے چیلنج کیا۔

انھوں نے وزیر اعلیٰ کے طور پر سماجی تبدیلی کی ایک نئی سیاست کا آغاز کیا اور ریاست کے بے زبانوں کو زبان دی۔ لالو کے 15 برس کے اقتدار میں پسماندہ ذاتوں کو سیاست میں شراکت حاصل ہوئی۔

سیاست میں جمہوری عمل شروع ہوا لیکن اس مدت میں ریاست کے ادارے نراجیت کا شکار ہوگئے۔ لالو غریب عوام کو اصل دھارے میں لانے کے جمہوری عمل کو ریاست کے اداروں سے نہ منسلک کر سکے۔

اسی تحریک سے نکلنے والے نتیش کمار نہ صرف انتہائی غریب لوگوں کو اوپر لائے بلکہ انھوں نے ریاست کے اداروں کو بحال کیا اورانھیں استحکام بخشا۔ لالو اور نتیش اس وقت سات ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندرمودی نے بہار کا انتخاب جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ بھارت کی تاریخ میں شاید پہلا موقع ہے جب کسی صوبائی انتخاب میں کوئی وزیر اعظم 40 سے زیادہ انتخابی جلسے کر رہا ہو۔

مودی کی پوری کابینہ، پچاسوں ارکان پارلیمان اور آر ایس ایس کے ہزاروں کارکن بہار کے انتخابی میدان میں دن رات سرگرم ہیں۔ مودی نے بہار کے انتخاب کو مودی کا مقابلہ بنا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہار کے جاگیردارانہ نظام کو سیاسی سطح پر پہلی بار لالو پرساد یادو نے چیلنج کیا

آخر بہار کا الکشن مودی کےلیےاتنا اہم کیوں ہے ؟ بہار کےانتخابات مودی کے لیے ہی نہیں لالو اور نتیش کے لیے بھی وجود کی لڑائی بن گئے ہیں۔

اگر بہار کے انتخابات میں لالو اور نتیش کے اتحاد کو شکست ہوتی ہے تو سماجی تبدیلی کی ان کی تحریک کو زبردست دھچکا پہنچےگا اور یہ عمل اپنی افادیت کھو دے گا۔ دونوں رہنماؤں کی سیاسی جماعتوں کے وجود کی بھی مستقبل میں کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔

بی جے پی کی جیت کی صورت میں مودی کی طاقت کافی بڑھ جائے گی اور ان کے لیےاتر پردیش میں انتخاب جیتنے کا سب سے بڑا سیاسی امتحان آسان ہو جائےگا۔

ذاتی طور پر مودی کو پارٹی کے اندر موجود مخالفین سے خطرہ ختم ہو جائےگا۔ مودی کسی کی مداخلت کے بغیر اپنے ایجنڈے پر زیادہ موثر طریقے سے عمل کر سکیں گے۔

لیکن اگر بی جے پی بہار میں ہارتی ہے تو پارٹی کےاندر مودی کےخلاف بغاوت شروع ہو سکتی ہے۔ ان کے شخصی طریقہ کار سے پارٹی کےبہت سےرہنما ناخوش ہیں۔ خود بہار کے کم از کم سات رہنما مودی کے خلاف بیانات دے چکےہیں۔

بہار اس وقت واضح طور پردو محاذوں میں منقسم ہے۔ پیر کے پہلے دور کی پولنگ سے قبل مقابلہ برابر کا نظرآتا ہے۔ پانچ نومبر کو آخری مرحلے کی پولنگ ہوگی۔

بہار کےانتخابا ت کے نتائج صرف لالو اور نتیش کی سیاسی قسمت کا ہی فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ یہ نتیجے بھارت کی مستقبل کی سیاست کا رخ بھی طے کریں گے۔

اسی بارے میں