طالبان کا ’مقاصد کے حصول‘ کے بعد قندوز سے نکلنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے قندوز کی جیل سے سینکڑوں جنگجووں کو آزاد کروا لیا ہے

افغانستان میں طالبان نے کہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے بعد اب ملک کے شمالی شہر قندوز سے نکل رہے ہیں۔

طالبان اس علاقے میں افغان فوج کے ساتھ گذشتہ دو ہفتوں سے محو جنگ تھے۔

طالبان کا قندوز پر قبضہ اور مضبوط ہو گیا

قندوز میں طالبان کے ساتھ ’سیلفیز‘ کا مقصد کیا ہے؟

طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے قندوز کی جیل سے سیکنڑوں جنگجووں کو آزاد کروا لیا ہے اور بڑی تعداد میں فوجی ساز و سامان قبضے میں لے لیا ہے۔

طالبان نے گذشتہ ماہ قندوز پر قبضہ کر لیا تھا تاہم بعد میں انھیں اہم علاقوں سے واپس دھکیل دیا گیا۔

افغانستان کی حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ اب شہر ان کے کنٹرول میں ہے۔

اسی اثنا میں افغانستان کے جنوبی صوبے غزنی کے اطراف میں افغان فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے۔

Image caption سرکاری بیان کے مطابق فوج نے طالبان کو شہر سے پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے

طالبان نے منگل کی صبح یہاں زبردست حملہ کیا تھا اور طالبان کی جانب سے داغے گئے ایک راکٹ سے کم سے کم دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

اطلاعات ہیں کہ مقامی افراد لڑائی کے آغاز کے بعد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے ایک ساتھ کئی جانب سے صوبائی دارالحکومت پر حملہ کیا۔

غزنی شہر افغانستان کے دارالحکومت کابل کے جنوب میں تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے صوبے کے نائب گورنر محمد علی احمدی کا کہنا تھا: ’آج صبح غزنی شہر پر تقریباً دو ہزار طالبان جنگجوؤں نے کئی جانب سے حملہ کیا۔

’طالبان کے ساتھ شدید لڑائی کے دوران ان کا فاصلہ غزنی شہر سے محض پانچ کلومیٹر دور تک ہی رہ گیا تھا تاہم افغان فوج کی جانب سے زبردست مزاحمت کے باعث طالبان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘

تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں