چین: فضائی عملہ سامان رکھنے والی جگہ پر سوتا ہے

Image caption اس سے متعلق پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ کیبن کے عملے کو ’سکیورٹی حکام نے انڈسٹری کی ایک روایت کے تحت 30 سے 40 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد زبردستی لاکر میں سونے پر مجبور کیا‘

چین کی ایک نجی ایئر لائن میں کام کرنے والی ملازمہ کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں جس میں وہ طیارے میں سیٹ کے اوپر سامان رکھنے والے باکس میں لیٹی ہیں۔

انٹر نیٹ پر یہ تصویریں مقبول چيٹ ایپ ’وی چیٹ‘ پر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ انھیں غنڈہ گردی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ کیبن کے عملے کو ’سکیورٹی حکام نے انڈسٹری کی ایک روایت کے تحت 30 سے 40 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد زبردستی لاکر میں سونے پر مجبور کیا۔‘

کنمنگ ایئر لائن نے اس سے متعلق ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب کیبن کا عملہ اپنی ڈیوٹی پوری کر چکا تھا اور اس سے جہاز کی سکیورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

کمپنی نے مزید کہا کہ اسے اس سلسلے میں عملے کی جانب سے کبھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ’کمپنی اس واقعے کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور مستقبل میں اسے دہرانے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرےگي۔‘

چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا ہے کہ اس سے بیشتر خواتین ملازم ناخوش تھیں لیکن اس کے باوجود اس خدشے کے سبب کبھی شکایت نہیں کی کہ ان کے سینیئر ساتھی انھیں قبول نہیں کریں گے۔

اس کے مطابق ’کئی ایئر ہوسٹسوں کی جانب سے اس سے متعلق شکایت بھی کی گئی تھی لیکن ان کی درخواست پر کبھی توجہ نہیں دی گئی اور یہ رواج جاری رہا۔‘

چین کے سوشل میڈیا پر اس سے متعلق بہت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور بہت سے لوگوں نے کیبن کے عملے سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

ایک شخص نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’پروازوں کے غیر مستقل نظام الاوقات کے درمیان ایئر ہوسٹسوں کو جہاز پر سوار مشکل مسافروں سے ویسے ہی نمٹنا آسان کام نہیں ہے۔ ذرا سوچیے کہ ایسے میں اگر ساتھیوں سے اضافی مسائل کا سامنا تو پھر کیا ہو گا۔‘

اسی بارے میں