پاکستانی مریضہ کے لیے ممبئی والوں کی چندہ مہم

تصویر کے کاپی رائٹ shabia
Image caption صبا احمد ’ولسن ڈس آڈر‘ نامی بہت ہی کم پائی جانے والی جنیاتی عارضے میں مبتلا ہیں

پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکی صبا احمد علاج کے لیے بھارت گئی تھیں جہاں سے وہ صحت یاب ہو کر کراچی واپس پہنچی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں صبا کے علاج کے لیے بھارت میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم نے 13 لاکھ روپے کا چندہ اکٹھا کیا۔

صبا احمد ’ولسن ڈس آڈر‘ نامی بہت ہی کم پائی جانے والی جینیاتی عارضے میں مبتلا ہیں۔

اس بیماری کے شکار مریضوں کے جسم میں موجود تانبا اعضا میں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ عضو کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

صبا احمد کی والدہ نازیہ نے بی بی سی ہندی کے انوراگ پارکیک کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو علاج کی غرض سے ممبئی لائیں اور انھیں جسلوک ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔

ان کی والدہ نے کہا تھا کہ علاج مہنگا تھا اور ان کے پاس پیسے کم تھے۔ ایسے میں بھارت میں غیر سرکاری تنظیم نے صبا کے علاج کے لیے رقم اکٹھی کی۔

بلیو بیلز نامی غیر سرکاری فلاحی تنظیم سے وابستہ شہبیا نے ان کی مدد کی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہبیا نے بتایا کہ ایک دن انھیں موبائل پر پیغام ملا کہ اس بچی کو علاج کی ضرورت ہے۔

’تصویر میں وہ بچی ہسپتال کے بستر پر ہونے کے باوجود مسکرا رہی تھی۔ میں نے فورًا اُس نمبر پر کال کی تو اس کی ماں نے کہا کہ ان کے پاس صرف 80 ہزار ہیں اور ہسپتال کا بل دو لاکھ تک ہو گیا ہے۔ میں نے فوری طور پر 35 ہزار جمع کیے اور ہسپتال پہنچی۔ پھر اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔‘

صبا اپریل میں ممبئی آئیں تھیں اور پھر علاج کے بعد اب اکتوبر میں وہ کراچی واپس آْ گئی ہیں۔

بلیو بیلز نے صبا کے علاج کے لیے رقم اکٹھی کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر مہم چلائی اور تین ماہ میں انھوں نے 10 لاکھ روپے اکٹھے کیے۔

صبا کی ڈاکٹر کا کہنا ہے اس بیماری میں زندگی بھر ادویات کھانی پڑتی ہیں اور دوائیں کافی مہنگی ہیں۔

ڈاکٹر نگرال نے بتایا: ’جب معمول کی ادویات مرض کو کم نہ کر سکیں تو دوسری ادویات دینا پڑیں۔ دوائی کی ایک بوتل ایک لاکھ 70 ہزار روپے کی ملتی ہے۔ فزیو تھراپی کے بعد صبا چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔‘

غیر ملکی امدادی اداروں نے بھی صبا احمد کو مالی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

صبا کی والدہ نازیہ نے کہا کہ انھیں بھارت میں بہت محبت ملی اور ہندو سکھ عیسائی مسلمان سب نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔

بھارت کا شمار خطے کے اس ملک میں ہوتا ہے جہاں طبی سیاحت یا علاج معالجے کے لیے غیر ملکی بہت بڑی تعداد میں آتے ہیں اور اس سے قبل بھی کئی پاکستانی مریض پیچیدہ سرجری کے لیے بھارت گئے ہیں۔

اسی بارے میں