’کیا تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Dalip Kaur Tiwana
Image caption گوتم بدھ اور گورو نانک کی سرزمین پر سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں: مصنفہ دلیپ کور

ہندوستان میں عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ادیبوں کی آواز میں بھی شدت آ رہی ہے اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے رد عمل میں بھی۔

انعامات واپس کرنے والے سرکردہ ادیبوں کی فہرست میں اب مصنفہ دلیپ کور توانا کا نام بھی شامل ہوگیا ہے جو پنجابی زبان میں لکھتی ہیں۔

انھوں نے یہ کہتے ہوئے ملک کا چوتھا سب سے بڑا شہری اعزاز ’پدم شری‘ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے کہ ’گوتم بدھ اور گورو نانک کی سرزمین پر سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں۔‘

اس روز بروز بڑھتی ہوئی فہرست میں اب 20 سے زیادہ ادیب شامل ہوگئے ہیں۔ اس کی ابتدا ادے پرکاش اور نین تارا سہگل نے کی تھی اور اس کے بعد یہ کارواں بڑھتا چلا گیا۔

ادے پرکاش کا کہنا ہے: ’ستمبر میں جب میں نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو چاروں طرف خاموشی تھی، لگا کہ غلطی ہو گئی ہے، لیکن اب مجھ سے بھی بہت بڑے بڑے ادیب اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں، اب لگتا ہے کہ سب کے دل میں یہ بات تھی کہ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا۔‘

Image caption ادیبوں کی جانب سے احتجاج کی ابتدا ادے پرکاش اور نین تارا سہگل نے کی تھی اور اس کے بعد یہ کارواں بڑھتا چلا گیا

ملک میں گذشتہ چند مہینوں میں کئی مفکروں اور ادیبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کچھ کو صرف ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا گیا لیکن نریندر دابھولکر اور گووند پنسارے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ’توہم پرستی‘ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔

یہ مصنفین اس بات پر ناراض ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے ادبی ادارے ساہتیہ اکیڈمی نے ان کے قتل کے خلاف آواز تک نہیں اٹھائی۔ اسی پس منظر میں جب دہلی کے قریب ایک مسلمان شخص کو گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں اس کے گھر سے نکال کر قتل کر دیا گیا تو عدم رواداری کا مسئلہ پھر سرخیوں میں لوٹ آیا۔

ادے پرکاش کہتے ہیں: ’وزیر اعظم بہت اچھا بولتے ہیں لیکن جہاں بولنا چاہیے وہاں انھوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔۔۔ یہ خاموشی ڈراتی ہے۔‘

گذشتہ چند دنوں میں ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا بھی سرخیوں میں رہی ہے۔ پہلے اس کے دباؤ میں غلام علی کا کنسرٹ منسوخ کیا گیا اور پھر پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریبِ رونمائی روکنے کی کوشش کی گئی۔

ادے پرکاش کا کہنا ہے: ’آپ اگر غلام علی کو روکتے ہیں تو آپ غزل کو روک رہے ہیں، قوالی کو روک رہے ہیں، آپ نظم کو روک رہے ہیں۔۔۔ اسلامی کلچر کے امتزاج سے یہاں بڑی چیزیں پیدا ہوئی ہیں جو آپ کا ثقافتی ورثہ ہیں۔۔۔ کیا آپ تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟ یہ بات کہاں جا کر رکے گی؟‘

لیکن دوسری طرف آر ایس ایس جیسی تنظیمیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’ کچھ دانشوری کے ایسے ٹھیکیداروں نے اپنے اعزازات واپس کیے ہیں ۔۔۔جو سیکیولرزم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔‘

بی جے پی کا موقف ہے کہ ’ساہتیہ اکیڈمی خود ادیب ہی چلاتے ہیں اور حکومت سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں، لہٰذا اعزازات واپس کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

بی جے پی کے وفاقی وزیر مہیش شرما کا پیغام کافی سادہ ہے: ’جب لکھاری لکھنا بند کردیں گے تو دیکھا جائے گا۔‘

لیکن یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی اتنی آسانی سے ختم ہو گا۔ ادیبوں نے ہندوستان میں رواداری کے سوال پر ایک نئی کتاب لکھنا شروع کی ہے اور ابھی صرف پہلے باب کی رونمائی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں