ممبئی میں ڈانس بارز پھر سے کھل سکیں گے

Image caption مھاراشٹر کی سابقہ کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے رقص گاہوں پر پابندی عائد کر کے انہیں بند کروا دیا تھا

بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے ایک اہم فیصلے میں ریاست مہاراشٹر میں ڈانس بارز یعنی رقص گاہوں پر لگی پابندی کو ختم کر دیا ہے اور اس طرح ممبئی میں بند پڑے بہت سے ڈانس بارز دوبارہ کھل سکیں گے۔

مہاراشٹر کی سابقہ کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے رقص گاہوں پر پابندی عائد کر کے انہیں بند کروا دیا تھا۔

اس فیصلے کے مخالفین نے حکومت کی اس پابندی کے خلاف طویل قانونی لڑائی لڑی اور بالآخر سپریم کورٹ نے اس پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

رقص گاہوں کے مالکان نے عدالت کے اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔

ممبئی ڈانس بار ایسوسی ایشن کے ترجمان منجیت سنگھ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’ہم اسے ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ممبئی سے نائٹ لائف ایک طریقے سے ختم ہو گئی تھی اور جو خواتین رقاصائیں تھیں وہ گھر چلانے کے لیے جسم فروشی کرنے پر مجبور ہوگئیں تھیں۔ ہماری تجارت بھی اب اچھی طرح سے چل سکے گی۔ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

منجیت سنگھ نے مزید کہا: ’جو لوگ کہتے ہیں کہ پابندی کے باوجود رقاصائیں بار میں جا رہی تھیں وہ غلط کہتے ہیں کیونکہ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے اور لڑکیاں صرف آرکسٹرا میں گا بجا رہی تھیں (جو ایسا کر سکتی تھیں) باقی تمام لڑکیوں نے بڑا مشکل وقت کاٹا ہے۔‘

جمعرات کو سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں رقص باروں کو تو کھولنے کی اجازت دے دی لیکن لائسنز حکام کو اس بات کی چھوٹ بھی دے دی کہ وہ رقص پروگراموں پر نظر رکھیں تاکہ وہ فحش پروگراموں پر کارروائی کر سکیں۔

اسی بارے میں