سری لنکا میں جلاد پھانسی گھاٹ سے خوفزدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا کی جیلوں میں اس وقت 11 سو سے زیادہ سزائے موت کے قیدی موجود ہیں

سری لنکا میں گذشتہ سال پھانسی گھاٹ پہلی مرتبہ دیکھنے پر خوفزدہ ہو کر استعفیٰ دینے والے جلاد کی جگہ دو نئے جلادوں کو ملازمت دے دی گئی ہے۔

اس سے پہلے بھی دو جلاد پھانسی گھاٹ دیکھنے کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں۔انھیں 2013 میں ملازمت دی گئی تھی۔

سری لنکا میں 1976 سے کسی کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی جبکہ جلادوں کو ’صرف ہلکی نوعیت کے انتظامی کاموں‘ پر مامور کیا جاتا رہا ہے۔

سری لنکا کے کمشنر جیل جنرل روہانا پشپا کمارا کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے پھانسی کی سزا بحال کرنے کی صورت میں ہمیں پہلے ہی سے تیار رہنا ہو گا۔‘

سری لنکا کی جیلوں میں 1116 قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں لیکن پچھلے 40 سالوں سے ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سری لنکا نےگذشتہ ماہ اس بات کا اقرار کیا تھا کہ اس کا سزائے موت کو بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے بچوں کے ساتھ زیادتی، ریپ، قتل، اور منشیات کی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کی خاطر سری لنکا میں سزائے موت بحال کرنے کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ سزائے موت کے حق میں نہیں ہے لیکن صدر سری سینا نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دی تو وہ اس کی حمایت کریں گے کیونکہ پارلیمنٹ کی منظوری عوام کی منظوری ہے۔

میں نہیں جھجکوں گا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو جلاد پھانسی گھاٹ دیکھنے کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں

پشبا کمارانے بی بی سی سنہالی کو بتایا کہ 24 درخوست گزاروں میں سے صرف 14 انٹرویو کے لیے آئے۔

ایک درخواست گزار، جو ایک سابق فوجی بھی ہیں، کہتے ہیں کہ’میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والوں، قاتلوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں سے خائف ہوں، اس لیے اگر مجھ سے ان کو پھانسی دینے کے لیے کہا جائے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت سزائے موت بحال نہیں کرتی تو وہ نوکری چھوڑ دیں گے۔

دوسرے درخواست گزار نے کہا کہ سزائے موت بحال نہ ہونے صورت میں جلاد کی نوکری میں کام کا کم بوجھ ان کے لیے کشش کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ مجھ سے کسی کو پھانسی دینے کے لیے کہیں ہیں تو میں تیار ہوں، لیکن ایسا ہوتا نطر نہیں آتا۔‘

دارالحکومت کولمبو کی جیل میں جلاد کی اسامی اس وقت خالی ہوئی جب گذشتہ سال ایک جلاد نے پہلی مرتبہ پھانسی گھاٹ دیکھنے کے بعد اعصابی تناؤ میں آ جانے کی بنا پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسی بارے میں