چین کی ہمسایہ ریاستوں کو بحری مشقوں کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption چین کی جانب سے سمندری حدود کے دعووں کے بعد اس کی ہمسایہ ریاستوں میں تشویش پائی جاتی ہے

چین نے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کو سنہ 2016 میں متنازع سمندری علاقے جنوبی بحیرۂ چین میں بحری مشقیں کرنے کی پیشکش کی ہے۔

بیجنگ اس وقت علاقے کے وزرائے دفاع کی ایک غیر رسمی ملاقات کی میزبانی کر رہا ہے۔

چین کے وزیرِ دفاع چینگ وان کوان نے بحری امداد اور آفتوں سے بحالی کے لیے ان مشقوں کی پیش کش کی ہے۔

چین کی جانب سے سمندری حدود کے دعووں کے بعد اس کی ہمسایہ ریاستوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

فلپائن اور ویت نام کا بھی انہی علاقوں کی ملکیت کا دعویٰ ہے جن کے بارے میں چین کہتا ہے کہ وہ اس کے علاقے ہیں۔

چین کی جانب سے مشترکہ بحری مشقوں کی پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی امریکہ نے اس سمندری علاقے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا تھا جن پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ چین نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

چین کی وزاتِ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مشقوں کا ایک مقصد مل کر تنازعات کو حل کرنا اور خطرات پر قابو پانا ہے۔

چین پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ سمندر حدود میں فوجیں اکٹھی کر رہا ہے اور جزائر اور سمندری حدود پر غیر قانونی طور پر ملکیت جتا رہا ہے۔

امریکہ نے چین کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کو کہا ہے۔ لیکن چین کا موقف ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے علاقوں میں کام کر رہا ہے، اور ان جزائر پر ہونے والی تعمیرات شہریوں کے لیے ہیں جن میں ماہی گیری اور امدادی کاموں سے متعلق تعمیرات شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کے وزیرِ دفاع چینگ وان کوان نے ان مشقوں کی پیش کش بحری امداد اور آفتوں سے بحالی کے لیے کی ہے

اسی بارے میں