مالدیپ کی سپریم کورٹ نے سنگساری کی سزا منسوخ کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption خاتون کو پتھر مار کر ہلاک کرنے کی سزا پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر خوب تنقید کی جا رہی ہے

مالدیپ کی سپریم کورٹ نے ایک مقامی عورت کو سنگسار کیے جانے کی سزا منسوخ کر دی ہے۔

اس خاتون کو اتوار کو گیمانافوشی کے مقامی مجسٹریٹ کی عدالت کی جانب سے شادی کے بغیر بچے کی پیدائش پر یہ سزا سنائی گئی تھی۔

مالدیپ میں سعودی اثرو رسوخ

مالدیپ: 15 سالہ لڑکی کو سو کوڑوں کی سزا

سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس سزا کو منسوخ کر دیا کہ اس معاملے میں عدالتی طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

سنگسار کیے جانے کی سزا سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کی خوب تنقید ہوئی تھی اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

مالدیپ میں کسی عدالت کی جانب سے دی جانے والی اس قسم کی سزا کی جدید تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی البتہ اس سے پہلے عوام کے سامنے کوڑے مارنے کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔

دو برس قبل عدالت نے جنسی زیادتی کا شکار ایک 15 سالہ لڑکی کو شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے پر سو کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔

خیال رہے کہ سیاحوں میں انتہائی مقبول جنوبی ایشیائی ملک مالدیپ میں شادی سے قبل جنسی تعلقات غیرقانونی ہیں لیکن ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔

مالدیپ میں قانونی نظام اسلامی شریعہ اور انگلش کامن لا سے اخذ شدہ ہے۔

مالدیپ میں گذشتہ کچھ عرصے سے سعودی عرب کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں اسلامی قوانین کو زیادہ سخت بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں