’کلکتہ سے احمد آباد گاڑی پر نہیں، پیدل آؤں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جین مذہب میں بچوں کو بال دکشک بننانے کا رواج ہے

بھارت میں جین مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک سادھو نے کہا ہے کہ عدالت کی طرف موصول ہونے والے ایک سمن کی پیروی کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہونے کے لیے انھیں آٹھ ماہ کا عرصہ چاہیے کیونکہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق سفر کرنے کا کوئی جدید ذریعہ استعمال نہیں کر سکتے۔

یہ سادھو کولکتہ میں مقیم ہیں۔ وہاں سے 14 سو میل دور احمد آباد میں قائم ایک عدالت نے ان کا عذر رد کرتے ہوئے انھیں اگلے ماہ عدالت میں پیش ہونے کا کہا ہے۔

سادھو کا کہنا ہے کہ وہ کوئی گاڑی یا سفر کرنے کا کوئی جدید ذریعہ استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ انھوں نے دنیا کو تج دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں جین مذہب کے پیروکاروں کی تعداد 40 لاکھ کے لگ بھگ ہے

ان پر سرکاری کاغذات میں جعل سازی کر کے کم عمر بچوں کو جین مذہب کے پیروکار بنانے کا الزام ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 60 سالہ سادھو اچاریہ کرتی یشورشورجی مہاراج نے عدالت کو بتایا کہ وہ بہت معمر ہیں اور کمر میں تکلیف کے باعث ایک دن میں دس سے 12 کلومیٹر سے زیادہ پیدل نہیں چل سکتے۔

انھوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالت کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

لیکن عدالت نے ان کی یقین دہانی کو رد کرتے ہوئے تازہ سمن جاری کر دیے ہیں۔

جین مذہب میں کم عمر بچوں کو سادھو بنانے کا رواج عام ہے جنہیں ’بال دکشک‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں بہت عام ہے جہاں آٹھ سال تک کے بچوں کو سادھو بنا لیا جاتا ہے۔

مہاراج کے خلاف احمد آباد کے رہنے والے ایک سماجی کارکن جاسم شاہ نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور ان پر جین برادری کو دھوکہ دینے اور کا الزام عائد کیا ہے۔

جاسم شاہ کی وکیل نتن گاندھی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ان کی موکل نے یہ ثابت کر دیا ہے مہاراج نے حکومت ہند کی جانب سے جاری کردہ سرکاری گزٹ نوٹیفیکیشن میں رد و بدل کر کے یہ کہا ہے کہ ’بال دکشک‘ بھرتی کرنا یا بچوں کو سادھو بنا قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

قبل ازیں گجرات کی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اس روایت کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

بھارت میں 40 لاکھ جین آباد ہیں جن کی اکثریت گجرات اور راجستھان میں رہتی ہے۔

اسی بارے میں