جنگی جرائم کے الزامات ’مصدقہ‘ ہیں: سری لنکن کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف 26 سال تک جاری رہنے والی لڑائی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

سری لنکا میں سابق سرکاری جج نے کہا ہے کہ فوج اور تامل باغیوں کی لڑائی کے دوران فوج کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ’تصدیق شدہ‘ ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جنگی جرائم سے متعلق اعداد و شمار کے اجرا کے بعد سری لنکا کی حکومت کے جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

’جنگی جرائم‘ کی تحقیقات سے سری لنکا کا انکار

یہ انکوائری سابق سرکاری جج کی سربراہی میں ہو رہی ہے۔

ملک کے صدر نے مزید تحقیقات کے لیے سچ اور مفاہمتی کمیشن کے بنانے کا اعلان کیا تھا۔

سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف 26 سال تک جاری رہنے والی لڑائی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران فوج نے جنگی جرائم کیے اور تحقیقات کے مطابق معرکے کے آخری پانچ ماہ میں تقریباً 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

سابق جج میکسویل پرننگاما نے منگل کو سری لنکا کی پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’مصدق الزامات جس میں فوج کے بعض افراد جنگ کے آخری دنوں میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے اور اس سے اُن کی انفرادی مجرمانہ ذمہ داری بڑھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چینل فور نے اپنی دستاویزی فلم میں ’نو فائر زون‘ کی جو ویڈیو دکھائی ہے اُس میں قیدیوں کو آنکھ پر پٹی باندھے برہنا دکھایا گیا ہے، قیدیوں کے بازوں بندھے ہوئے ہیں اور انھیں گولیاں ماری گئیں۔

سری لنکا کی فوج نے اُس وقت کہا تھا کہ یہ دستاویزی فلم جھوٹ پر منبی ہے۔

پرننگاما کمشین کا کہنا ہے کہ مئی سنہ 2009 میں تامل سیاسی رہنما کی ہلاکت کے واقعے کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی معاونت سے عدالتی تحقیقات شروع کیں ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی اس تجویز دی گئی تھی۔

اس سےقبل حکومت نے سنہ 2013 میں جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمشین بنایا تھا۔

اسی بارے میں