کمیونسٹ پارٹی کےارکان پرگولف کلبوں کی رکنیت ممنوع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی عوام گولف کلبوں کو ایسے مقامات سمجھتی ہیں جہاں پر چینی حکمران بدعنوانی کے سودے کرتے ہیں

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے قوانین میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اپنے آٹھ کروڑ 80 لاکھ ارکان پرگولف کلبوں میں رکنیت حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق پرتعیش کھانے پینے اور طاقت کے غلط استعمال پر بھی باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

چین: تیل کی کمپنی کے سابق سربراہ کو قید کی سزا

سگریٹ نوشی سے تین میں سے ایک نوجوان کی زندگی خطرے میں

ماضی میں پارٹی نے اپنے اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ عوامی فنڈز سے پرتعیش کھانوں سے گریز کریں اور مون کیکس نہ خریدیں۔

سنہ 2012 سے چین نے سخت انسداد عنوانی مہم کا آغاز کیا ہے۔

گولف کے نئے اصول کے مطابق ارکان ’جمز، کلبز، گولف کلبز یا کسی نجی کلبز کے لیے رکنیت کارڈ نہ تو حاصل سکتے ہیں، نہ رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی استعمال کر سکتے ہیں۔‘

اگر ان قوانین کو توڑنے والا کوئی رکن پکڑا جاتا ہے تو یا تو اسے تنبیہ دی جائے گی یا پھر پارٹی سے بے دخل کر دیا جائے گا۔

نئے قواعد و ضوابط یہ نہیں بیان کرتے کہ گولف کلبز میں رکنیت حاصل کرنے پر پابندی عائد کیوں کی گئی ہے لیکن چینی عوام اکثر ان کلبز کو ایسے مقامات سمجھتے ہیں جہاں پر حکمران بدعنوانی کے سودے کرتے ہیں۔

پارٹی کے ان سخت قوانین کی وجہ ماضی میں چین کے ریستوران اور پرتعیش اشیائے خورد و نوش کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے تین سال پہلے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انسداد بدعنوانی کی ایک بڑی مہم چلائی ہے۔

اسی بارے میں