دادری: ’ہجوم کا ردعمل نہیں باقاعدہ منصوبہ بندی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سمتمبر کے اواخر میں دارالحکومت دلی کے پاس دادری کے ایک گاؤں بسہاڑا میں رات کے وقت ہندوں کے مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا تھا

دہلی سے متصل دادری میں گائے کاگوشت کھانے کی افواہ پر ہلاکت کے واقعے کی تفتیش کرنے والے ایک کمیشن کا کہنا ہے کہ قتل کا یہ واقعہ ہجوم کا رد عمل نہیں بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔

قومی اقلیتی کمیشن کے ارکان نے دادری کے بسہاڑا گاؤں، جہاں محمد اخلاق کو ہلاک کیا گيا تھا، دورہ کیا تھا۔

دادری، غلام علی جیسے واقعات افسوس ناک ہیں: مودی

دادری: متاصرہ خاندان گاؤں چھوڑنا چاہتا ہے

دادری واقعے نے بھارتی سیاسی شعور کی قلعی کھول دی

اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اخلاق اور ان کی فیملی پر حملے کے لیے منصوبہ بندی سے ہندوؤں کے ایک مندر کا استعمال کیا گیا۔

اس کے برعکس حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور اس سے وابستہ مرکزی حکومت کے وزرا اس واقعے کو منصوبہ بندی کے بجائے فوری طور پر ہوئے غصے کا رد عمل قرار دیتے ہیں۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں گائے کا گوشت کھانے یا گائے کی سمگلنگ کرنے کی محض افواہ پر تین مسلمانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

Image caption خاندان پر حملے کے لیے ایک خاص برادری کے لوگوں کو جمع کرنے کے مقصد سے باقاعدہ گاؤں کے ایک مندر کا استعمال کیا گيا

ستمبر کے اواخر میں دارالحکومت دلی کے پاس دادری کے ایک گاؤں بسہاڑا میں رات کے وقت ہندوں کے مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا تھا۔ دونوں کو گھر سے باہر نکال کر اس قدر مارا پیٹا کی اخلاق کی موقعے پر ہی موت ہوگئی جبکہ ان کا بیٹا بری طرح زخمی ہوا تھا جس کا اب بھی علاج چل رہا ہے۔

قومی اقلیتی کمیشن کی تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اخلاق پر ہجوم نے جو حملہ کیا اس کی پہلے سے پلاننگ کی گئی تھی اور ’اس خاندان پر حملے کے لیے ایک خاص برادری کے لوگوں کو جمع کرنے کے مقصد سے باقاعدہ ایک مندر کا استعمال کیا گيا۔‘

ٹیم کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ مندر سے یہ اعلان کرنا کہ گائے کے باقیات پائے گائے ہیں لوگوں کو مشتعل کرنے اور حملہ کرنے کا سبب بنا۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے رات کو جس وقت یہ واقعہ پیش آیا ’اس وقت گاؤں کے بیشتر لوگ سو جانے کا دعویٰ کرتے ہیں اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اتنے بڑے ہجوم کو اس وقت اتنی جلدی جمع کرنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔‘

اس بارے میں ریاستی پولیس خود بھی تفتیش کر رہی ہے جس کی رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔

البتہ گوشت سے متعلق فورینزک رپورٹ آگئی ہے جس کے مطابق اخلاق کے گھر سے دستیاب گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے تھا۔

چونکہ ان پر گائے کا گوشت کھانے اور جمع کرنے کا الزام تھا اس لیے پولیس نے ان کے گھر کی فرج میں رکھے گے گوشت کو جانچ کے لیے لیباٹری بھیجا تھا۔ اور اس سرکاری رپورٹ کے مطابق وہ گوشت بکرے کا ہے۔

اسی بارے میں