’دہشت گرد‘سے سائنس کے ٹیچر

تصویر کے کاپی رائٹ SUSHANT MOHAN
Image caption جیل سے اپنی رہائی کے ٹھیک ایک ماہ بعد ممبئی کے گرانڈ روڈ پر واقع عبدالستار شعیب سکول میں واپس آکر 37 سالہ سائنس کے استاد عبدالواحد نے درس و تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے

گذشتہ ماہ بھارت کی ایک عدالت نے ممبئی میں 2006 میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے لیے 12 ملزمان کو قصورار ٹھہرایا اور اس میں سے ایک ملزم عبدالواحد شیخ کو بری کر دیا۔ عبدالواحد سکول کے استاد تھے۔

ان دھماکوں میں 189 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مینکا راؤ نے عبدالواحد سے ملاقات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جیل سے باہر آنے کے بعد سے ان کی زندگی کیسے گزر رہی ہے۔

جیل سے رہائی کے ٹھیک ایک ماہ بعد ممبئی کے گرانڈ روڈ پر واقع عبدالستار شعیب سکول میں واپس آ کر 37 سالہ سائنس کے استاد عبدالواحد نے درس و تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

سکول چلانے والی تنظیم انجمنِ اسلام کے صدر ظاہر قاضی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اپنی قانونی ٹیم سے صلاح مشورے کے بعد انھیں دوبارہ لے لیا ہے۔ اب ریاستی حکومت کو ان کی تنخواہ سے متعلق دستاویز کو منظور کرنا ہے کیونکہ فنڈز وہی مہیا کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم تعصب سے کام نہیں لیتے۔ ہم ایسے شخص کا گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں جو غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہو اور اسے اپنے خاندان کو سہارا بھی فراہم کرنا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree Fadnavis
Image caption وہ کہتے ہیں کہ سکول کی جانب سے انھیں ہر ممکن حمایت ملی ہے اور وہ تعصب نہیں جھیلنا پڑا جو عام طور پر جیل سے واپس آئے لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے

عبدالواحد شیخ ہنستے ہوئے بی بی سی سے کہتے ہیں: ’میرے کالج کا اب ایک مذاق یہ بھی ہے کہ آپ جیل ہی میں بہتر تھے۔ یہ بچے بڑے بدمعاش ہیں۔ ہم ان سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہ آپ کے سر پر بیٹھ کر مسالا پیستے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سکول کی جانب سے انھیں ہر ممکن حمایت ملی ہے اور وہ تعصب نہیں جھیلنا پڑا جو عام طور پر جیل سے واپس آنے والے لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہمارے شاگرد اس بات سے بہت خوش تھے کہ ہماری تصویریں انگریزی اور اردو کے اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ میں نے ان کے والدین سے بھی کوئی منفی رد عمل نہیں سنا۔ جب سے میں چھوٹ کر واپس آیا تب سے کسی ایک شخص نے بھی مجھے دہشت گرد نہیں کہا۔‘

لیکن ان کے لیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی کے شب و روز بتانا اور اس پر بات کرنا ایک چیلنج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANUSHREE FADNAVIS
Image caption شیخ اب قانون کی پڑھائی کر کے ان بے قصور لوگوں کو جیل سے باہر لانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں

جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا تو ان کے بیٹے کم سن تھے۔ ان کی اہلیہ، جنھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب بچوں کو عدالت لاتیں تو وہ انھیں پھول، ہاتھ سے تیار شدہ کارڈز اور چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرتے۔ ان تمام برسوں سے یہ تمام اشیا آج تک محفوظ ہیں۔

مسٹر شیخ کہتے ہیں: ’میرے بچوں کو مجھ سے بالکل مختلف توقعات ہیں۔ اگر میں انھیں کسی بات پر ڈانٹتا ہوں تو انھیں بہت برا لگتا ہے اور وہ بہت روتے ہیں۔ جبکہ ان کی ماں جو بڑی سختی سے بات کرتی ہیں ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔‘

اہل خانہ کی تمام طرح کی مخالفتوں کے باوجود شیخ کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ نے بھی سکول میں پڑھانے کا کام شروع کر دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے: ’ہمارے معاشرے میں خواتین باہر کا کام بہت کم کرتی ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں جب وہ اچھی طرح سے کام کرنے لگیں گے تب یہ فیصلہ کریں گے کہ ان کی اہلیہ کام کرتی رہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANUSHREE FADNAVIS
Image caption جیل میں ان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں اور دوران حراست انھیں جس طرح ٹارچر کیا گیا وہ اسے نہیں بھول پا رہے ہیں

ان کی اہلیہ بھی اس سے متفق ہیں: ’میرے لیے تو دہرا کام ہے، پہلے گھر کا کام پورا کرو پھر سکول کے لیے بھاگو۔‘

جب عمر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے والد کی واپسی سے خوش ہیں تو ان کا کہنا تھا: ’نہیں، میں اور خوش ہوتا اگر میرے چچا بھی بری ہوجاتے۔‘ ان کے چچا ساجد انصاری کو اسی کیس میں عمر قید کی سزا ملی ہے۔

عبدالواحد شیخ کہتے ہیں کہ وہ اپنے بھائیوں اور دیگر 12 افراد کے متعلق اکثر سوچتے رہتے ہیں جنھیں سزا سنائی گئي ہے۔

’جب میں کوئی ایسی چیز کھاتا ہوں جو جیل میں میسر نہیں، جیسے گوشت یا سافٹ ڈرنکس وغیرہ تو میں ان کے متعلق سوچنے لگتا ہوں۔ میں جیل سے باہر آ کر خوش ہوں لیکن اگر وہ سب کے سب رہا کر دیے جاتے تو بہت اچھی بات ہوتی۔ صرف میں ہی بےگناہ نہیں ہوں بلکہ یہ سارے بےگناہ لوگ ہیں۔‘

شیخ اب قانون کی پڑھائی کر کے ان بے قصور لوگوں کو جیل سے باہر لانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ جیل میں ان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں اور دوران حراست ان پر جس طرح تشدد کیا گیا وہ اسے نہیں بھول پا رہے۔

’جب آپ جیل میں صرف دو افراد کے ساتھ ہوں تو وہ پھر وہ حالت آپ کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔ ایک بار مجھ سے جب برداشت نہیں ہوا تو ماہرِ نفسیات کی مدد تک لینی پڑی تھی۔‘

شیخ کی اہلیہ کا کہنا ہے: ’وہ خوش دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ پریشانی اور تناؤ میں رہتے ہیں۔ وہ بات کسی اور چیز پر کرتے ہیں لیکن کرتے کرتے ان کی سوچ جیل اور وہاں قید لوگوں کے بارے میں بدل جاتی ہے۔ ہمیں ان کے لیے بڑی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔‘

اسی بارے میں