کشمیر: اجتماعی فاتحہ خوانی روکنے کے لیے کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میرواعظ عمرفاروق نے لوگوں اور رہنماؤں سے کہا تھا کہ زاہد رسول کی فاتح خوانی کے لیے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمع ہو جائیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندو اکثریتی ضلع اودھم پور میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مسلمان ٹرک ڈرائیور کی اجتماعی فاتحہ خوانی سے قبل حکومت نے سری نگر اور بیشتر دوسرے مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

جمعے کو علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمرفاروق نے عام لوگوں اور رہنماؤں سے کہا تھا کہ زاہد رسول کی فاتحہ خوانی کے لیے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمع ہو جائیں۔ لیکن جمعرات کو ہی میرواعظ سمیت تمام علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا اور جامع مسجد کے گرد و نواح میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

کشمیر میں گائے کے گوشت پر نئی جنگ

واضح رہے کہ زاہد رسول اُن تین مسافروں میں شامل تھے جو ٹرک میں سوار ہندو اکثریتی ضلع اودھم پور سے سری نگر آ رہے تھے کہ ایک ہندو ہجوم نے انھیں روکا اور ٹرک میں پیٹرول بم پھینک کر اسے نذرآتش کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زاہد کی موت ہوگی تو کشمیر میں احتجاج کی لہر پھیل گئی

اس واقعے سے کشمیر میں کشیدگی پیدا ہوگئی لیکن دس روز تک دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جب زاہد کی موت ہوگئی تو کشمیر میں احتجاج کی لہر پھیل گئی۔ اس دوران اننت ناگ اور سرینگر اضلاع میں مظاہرین اور پولیس کے مابین مسلسل تصادم ہو رہے ہیں جس کے دوران متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔

بیج بہاڈہ کے نوجوان نصیر احمد کے سر میں آنسوگیس کا شیل لگا جس کے بعد اس کی حالات تشویش ناک ہے۔

جمعرات کو بھی حکام نے سید علی گیلانی کو زاہد کے آبائی قصبہ اننت ناگ جانے سے روکا۔ مسٹر گیلانی نے لوگوں اور رہنماؤں سے جمعرات کو ہی اننت ناگ میں تعزیتی اجتماع کے لیے مدعو کیا تھا۔ اس سے قبل یاسین ملک نے اننت ناگ میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تو انھیں وہیں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے دوران یاسین ملک نے مزاحمت کی تو وہ زخمی ہوگئے۔

میرواعظ، گیلانی اور یاسین ملک نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ہمارے یہاں ایک طرف معصوم نوجوانوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بعد میں ماتم کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ یہ صورتحال بھیانک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں حالیہ دنوں میں گائے کے ذیبحے یا اس کی سمگلنگ کی محض افواہ پر کم سے کم تین مسلمانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے

واضح رہے کہ زاہد رسول کی ہلاکت گئوکشی کے قانون کے دوبارہ نفاذ سے متعلق جاری تنازع کے پس منظر میں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس ٹرک پر وہ سوار تھے اس میں گائیں تھیں اسی لیے اس پر حملہ ہوا تھا۔

اس حملے میں یوپی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نعمان کی موقعے پر ہی موت ہوگئی تھی۔

عاشورہ کے جلوسوں پر بھی پابندی

دریں اثنا آٹھ محرم کے جلوس اور عاشورہ کی تیاریوں پر بھی حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی گذشتہ 25 برس سےجاری ہے۔

انجنئیر رشید کہتے ہیں: ’یہ لوگ کہتے ہیں میں نے بیف پارٹی سے کچھ لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ مجھے بتائیے جب یہ لوگ محرم کے جلوس پر پابندی عائد کرتے ہیں، عید کے روز نماز پڑھنے نہیں دیتے، اور آج جمعے کے روز کرفیو نافذ کرتے ہیں، کیا اس سے ہمارے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی؟‘

اسی بارے میں