وہ ماڈل جو خود اشتہار بن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Internet
Image caption اس تصویر میں خوب صورت ’والدین‘ اپنے تین ’بچوں‘ کے ساتھ دکھائی دیے جن کی تصاویر کو تبدیل کر کے ان کی آنکھیں بہت چھوٹی اور ناک بہت موٹے بنائے گئے تھے

تائیوان کی وہ ماڈل ایک کلینک اور تشہیری ایجنسی کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی جن کی تصویر پلاسٹک سرجری کے ایک اشتہار میں لگائے جانے کے بعد انٹرنیٹ پر بےحد مشہور ہو گئی تھی۔

ماڈل ہائیڈی ییہ نے تائی پے میں بی بی سی کی نامہ نگار سنڈی سوئی سے کہا کہ اپنی شخصیت کے تاثر پر اختیار کھونے سے ان کی زندگی تباہ ہو گئی ہے۔

چین میں مشترکہ بیوی کی تجویز پر ہنگامہ

پلاسٹک سرجری کا الزام لگانے پر ہتکِ عزت کا دعویٰ ہائیڈی ییہ نے آنسو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ’میں روتی رہتی ہوں اور سو بھی نہیں پاتی۔ میرے لیے سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب میں ماڈل نہیں بننا چاہتی۔ میرے ماڈل ہونے کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے اس طرح کی تکلیف دے سکتے ہیں اور میں بدلے میں کچھ نہیں کر سکتی ہوں۔ میں صرف چھپ جانا چاہتی ہوں۔‘ ان کی مصیبت 2012 میں اس وقت شروع ہوئی جب انھوں نے تائیوان میں ایک کاسمیٹک کلینک کے لیے فوٹو شوٹ کیا۔ یہ تصویریں اشہارات میں استعمال ہونا تھیں جن کا مقصد لوگوں کو پلاسٹک سرجری کی طرف متوجہ کرنا تھا۔

اس تصویر میں خوب صورت ’والدین‘ اپنے تین ’بچوں‘ کے ساتھ دکھائی دیے جن کی تصاویر کو تبدیل کر کے ان کی آنکھیں بہت چھوٹی اور ناک بہت موٹے بنائے گئے تھے۔ اشتہار کے عنوان میں لکھا ہوا تھا: ’آپ کو صرف ایک پریشانی پیش آئے گی اور وہ ہے کہ بچوں کو کس طرح سمجھائیں گے۔‘ مس ییہ کہتی ہیں کہ ان کی ایجنسی اور تائے پے میں قائم ایک امریکی ایڈورٹائزنگ ایجنسی جے والٹر ٹامپسن کے دیے گئے کانٹریکٹ کے تحت اس اشتہار کو کاسمیٹک کلینک استعمال کر سکتی تھی اور صرف اخباروں اور رسالوں میں شائع کر سکتی تھی۔ لیکن بعد میں جے والٹر ٹامپسن نے پلاسٹک سرجری کے ایک اور کلینک ’سمپل بیوٹی‘ کو اپنی ویب سائٹ پر مس ییہ کی تصویر استعمال کرنے کی اجازت دی اور اپنے فیس بک صفحے پر بھی شائع کر دی۔

Image caption ہائیڈی کا کہنا ہے کہ اپنے شخصیت کے تاثر پر اختیار کھونے سے ان کی زندگی تباہ ہوگئی ہے

اس کے بعد ییہ کی تصویر انٹرنیٹ پر ایک نئے عنوان کے ساتھ مشہور ہو گئی: ’پلاسٹک سرجری، آپ اسے ہمیشہ کے لیے نہیں چھپا سکتے۔‘

پھر 2012 میں ایک چینی اخبار نے ہائیڈی ییہ کی تصویر ایک جھوٹی خبر کے ساتھ شائع کی جو پہلے سنہ 2004 میں چھاپی گئی تھی۔

جھوٹی خبر کے مطابق ہیلانگ جیانگ صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پتہ چلا کہ اس کی بیوی نے شادی سے پہلے پلاسٹک سرجری کروا رکھی تھی تو اس نے اپنی بیوی پر مقدمہ کر دیا۔ یہ احساس انھیں تب ہوا جب ان کے بچے بڑے ہو کر بالکل مختلف شکلوں کے نکلے۔

ییہ نے کہا: ’جب مجھے اس بات کا پہلے ایک دوست سے پتہ چلا تو میں سمجھی کہ یہ صرف ایک افواہ ہے۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ پوری دنیا اس خبر کو مختلف زبانوں میں پھیلا رہی تھی۔ لوگ اس خبر کو اصلی سمجھ بیٹھے۔ بالکہ میرے اس وقت کے بوائے فرینڈ کے دوست تک مجھ سے اس خبر کے بارے میں پوچھتے تھے۔‘ ہائیڈی ییہ کی تصویر اور ان سے منسلک خبریں گوگل کی ویب سائٹ پر عربی، انگریزی، جاپانی سمیت کئی زبانوں میں شائع کی گئی اور اب ایک عالمی ’میم‘ بن گئی ہیں۔ ہائیڈی ییہ کو ان واقعات کے بعد کم کام ملنے لگا۔

انھوں نے کہا: ’کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا کہ میں نے کبھی پلاسٹک سرجری نہیں کروائی۔ اس کے بعد مجھے اشتہاروں میں چھوٹے کردار ہی ملے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے ذاتی زندگی پر بھی اثر پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے منگیتر کے رشتہ دار بھی ان سے اس خبر کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اجنبی انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے بارے میں افواہیں پھیلا لیتے ہیں۔

ہائیڈی کے مطابق انھیں ممکنہ آمدنی میں 40 لاکھ نیو تائیوان ڈالر کا گھاٹا پڑا ہے جو تقریباً ایک لاکھ 23 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Heidi Yeh
Image caption اشتہاری ایجنسی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے

ہائیڈی ییہ جے والٹر ٹامپسن اور کاسمیٹک کلنک پر 50 لاکھ نیو تائیوان ڈالر کا مقدمہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا مقصد پیسے وصول کرنا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے بارے میں تمام خبریں جھوٹی ہیں اور یہ کہ دونوں کمپنیوں کو ان کی تصاویر کے غلط استعمال میں اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہو گی۔

مس ییہ نے کہا کہ انھوں نے کئی بار اپنی ماڈلنگ ایجنسی کے ذریعے کلینک اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے ان کی ویب سائٹوں پر سے اپنی تصاویر اتروانے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ دونوں کمپنیوں نے یہ کام صرف اسی وقت کیا جب ییہ نے حال ہی میں ایک اخباری کانفرنس میں دونوں کمپنیوں پر مقدمہ کرنے کی دھمکی دی۔ جے والٹر ٹامپسن نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ ان کی مہم ’پلاسٹک سرجری کو مزاحیہ انداز سے فروغ دینے کے لیے بنائی گئی تھی۔‘

لیکن ییہ کے وکیل اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا: ’ہم نے آپ کو ہائیڈی کی تصاویر ایڈٹ کرنے کا کاپی رائٹ ضرور دیا تھا لیکن کسی اور کمپنی کو تصاویر استعمال کرنے کا حق نہیں دیا تھا، نہ ہی انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا حق دیا تھا۔‘

اسی بارے میں