چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں تجارتی تعلقات’بحال‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تینوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے

چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین برسوں بعد ہونے والی پہلی ملاقات میں ہی سکیورٹی اور تجارتی تعلقات کو ’مکمل طور پر بحال‘ کر لیا ہے۔

تینوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سنہ 2012 سے تینوں ممالک کے درمیان نہ ہونے والی ملاقاتوں کو جاری رکھنے کے فیصلے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ان ممالک کے درمیان معاشی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع اور تاریخی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا ہے۔

چین اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ جاپان نے اس کی افواج کی جانب سے دوسری جنگ عظیم میں کیے گئے ظالمانہ عمل کی تلافی کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا ہے۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا ہونا ہی مذاکرات کی سب سے اہم بات ہے۔

ساڑھے تین سال قبل یہ مذاکرات تواتر کے ساتھ ہوتے تھے تاہم جاپان کے متعلق تنقید آمیز رویہ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کی صدر پارک جیون ہیے، چینی رہنما لی کی چیانگ اور جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ ’اس اجلاس میں ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ سہ ملکی تعاون کو مکمل طور پر بحال کر لیا گیا ہے۔‘

جنوبی کوریا کی صدر کا کہنا ہے کہ ’تینوں رہنماؤں نے ایک ساتھ کام کر کے ’جامع علاقائی معاشی اشتراک‘ یعنی آر سی ای پی کو مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تمام رہنما شمالی کوریا سے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تخفیف کے مقصد پر قائم ہیں۔

سنیچر کو لی کی چیانگ اور پارک کے درمیان ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا خاص طور پر کوریئن کھانوں کی چین میں برآمد اور روبوٹکس پر تحقیق میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

اسی بارے میں