’صدر کی کشتی میں دھماکے پر ایف بی آئی کی رپورٹ باقیوں سے الگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر یامین بال بال بچ گئے تھے

مالدیپ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے صدر کی کشتی میں دھماکے کے بارے میں امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی رپورٹ دیگر ایجنسیوں کی رپورٹس سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کے حتمی ثبوت نہیں ملے کہ جنوبی ایشیائی ملک مالدیپ کے صدر کی کشتی پر ہونے والا دھماکہ بم پھٹنے سے ہوا تھا۔

رواں برس 28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر عبداللہ یامین تو بال بال بچے تھے تاہم ان کی اہلیہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

قاتلانہ حملے کے شبہے میں نائب صدر گرفتار

’مالدیپ کے صدر کی کشتی میں دھماکہ ایک قاتلانہ حملہ تھا‘

مالدیپ کے صدر کی کشتی میں دھماکہ، اہلیہ سمیت تین زخمی

یہ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب صدر یامین حج کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے واپسی پر مالے کے قریب ایک جزیرے پر واقع ہوائی اڈے سے دارالحکومت جا رہے تھے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے مالدیپ کی حکومت نے ایف بی آئی سمیت کئی غیر ملکی تحقیقاتی اداروں سے مدد لی تھی۔

تاہم ایف بی آئی کی یہ رپورٹ مالدیپ کی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں دھماکے کو قاتلانہ حملہ قرار دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مالدیپ میں حکام نے ملک کے نائب صدر احمد ادیب کو بھی گذشتہ ہفتے صدر یامین کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے شک میں گرفتار کیا ہے

وال سٹریٹ جرنل کو فراہم کی گئی ایف بی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے تحقیق کاروں کو اس چیز کا حتمی ثبوت نہیں مل سکا کہ وہ ایک بم دھماکہ تھا۔

ایف بی آئی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد مالدیپ کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ سری لنکن اور سعودی تحقیق کاروں کو جائے وقوعہ سے دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے نشانات ملے تھے۔

خیال رہے کہ مالدیپ میں حکام نے ملک کے نائب صدر احمد ادیب کو بھی گذشتہ ہفتے صدر یامین کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے شک میں گرفتار کیا ہے۔

ان سے پہلے حکام دو فوجی اہلکاروں کو بھی ایسے ہی الزامات کے تحت پکڑ چکے ہیں جبکہ نائب صدر کے علاوہ ان کی سکیورٹی ٹیم کے سابق رکن سمیت مزید تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد مالدیپ کے حکام نے ملک میں سیاسی بے چینی اور دھماکے میں کسی تعلق کے امکان کو مسترد کیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد ایوانِ صدر کے وزیر محمد حسین شریف نے اسے قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں