چار کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا گیس سٹیشن

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس گیس سٹیشن پر پاکستان کے اسی قسم کے گیس سٹیشن کے مقابلے 140 گنا زیادہ خرچ آیا ہے

ایک حالیہ جائزے کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے افغانستان میں گیس سٹیشن کی تعمیر پر چار کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اس پروجیکٹ کا مقصد پیٹرولیم کی درآمد کے متبادل کے طور پر افغانستان میں قدرتی گیس کے ذخیرے کو استعمال کرنا تھا۔

تاہم اس پر جو اخراجات آئے ہیں وہ پڑوسی ملک پاکستان میں آنے والے اسی قسم کے پروجیکٹ کے اخراجات سے 140 گنا زیادہ ہیں۔

رپورٹ نے ان اخراجات کو ’بلا جواز اور حد سے زیادہ‘ بتایا ہے۔

افغان کی تعمیر نو کے سپیشل انسپیکٹر جنرل نے اس انتہائی تنقیدی رپورٹ کی اشاعت کی ہے۔ یہ گروپ افغانستان میں سنہ 2002 سے اب تک خرچ کی جانے والے تقریباً 110 ارب ڈالر کا جائزہ لے رہا ہے۔

افغانستان تعمیر نو کے سپیشل انسپیکٹر جنرل جان سوپکو نے کہا: ’یہ پیسے کا بیجا اور اشتعال انگیز استعمال ہے جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ وہاں بہت سی بے وقوفیاں ہوئی ہیں۔ فراڈ بھی ہو سکتا ہے۔ بدعنوانی بھی ہو سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اضافی خرچ ناگزیر ہے لیکن اس قدر خرچ کا جواز نہیں

خیال رہے کہ شبرغان میں بنایا جانے والا گیس سٹیشن افغانستان میں قدرتی گیس کا پہلا سٹیشن ہے۔ اس کا مقصد اس بات کی یقین دہانی تھی کہ آیا افغانستان میں قدرتی گیس کی صنعت کو فروغ دینا ملک کے معاشی مفاد میں ہے۔

ایک گیس سٹیشن بنانے پر چار کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کا خرچ بہت زیادہ ہے اور دوسرے ممالک میں اس پر دو لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

موازنے کے طور پر پاکستان میں اسی قسم کے ایک پروجیکٹ پر تین لاکھ چھ ہزار ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں اضافی خرچ ہو سکتا ہے لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنی زیادہ لاگت کے لیے کوئی وضاحت نہیں اور نہ ہی منصوبہ بندی، نفاذ یا نتیجے سے متعلق کسی سوال کا مناسب جواب ہے۔

اسی بارے میں