مودی عدم رواداری سے متفق ہیں: سونیا گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption کانگریس نے نئی دہلی میں پیر کو ایک مارچ کا اہتمام کیا تھا جس کے بعد بھارتی صدر کو ایک یادداشت پیش کی گئی

بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے عدم رواداری کے ماحول پر وزیرِاعظم نریندر مودی کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات سے اتفاق کرتے ہیں۔

سونیا گاندھی عدمِ رواداری کے ماحول پر بھارتی صدر پرنب مکھر جی سے ملاقات کے بعد پریس سے خطاب کر رہی تھیں۔

کانگریس نے نئی دہلی میں پیر کو ایک مارچ کا اہتمام کیا تھا جس کے بعد بھارتی صدر کو ایک یادداشت پیش کی گئی۔ اس میں موجودہ کشیدہ ماحول پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

مارچ میں کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے حصہ لیا۔

بھارت میں فاشزم آنے کو ہے!

کیرالہ: بھارت میں مذہبی رواداری کی مثال

بھارت میں عدم رواداری پر شاہ رخ خان کو تشویش

بھارت میں بڑھی ہوئی عدم رواداری پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ان ممتاز شخصیات کی فہرست بھی روز بروز لمبی ہو رہی ہے جنھوں نے حکومت کی خاموشی پر ناراضی ظاہر کرنے کے لیے اپنے اعزازات واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس صورتِ حال میں ملک تیزی سے دو حصوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ معاشرے کو ایک منظم انداز سے تقسیم کیا جا رہا ہے، اظہار خیال کی آزادی خطرے میں ہے اور اقلیتوں میں خوف کا احساس بڑھ رہا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی، حکمران بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ سب ٹھیک ہے، بس کچھ لوگ اپنی سیاست چمکانے کے لیے سازش کر رہے ہیں۔

تاہم ان لوگوں کی فہرست تیزی سے بڑھ رہی ہے جنھیں موجودہ حالات پر تشویش ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والا تازہ ترین نام بالی وڈ کےسپر سٹار شاہ رخ خان کا ہے، جو غیرمعمولی بات ہے کیونکہ فلم سٹار اکثر تنازعات سے دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔

شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ ملک میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے اور ایسے ماحول میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

ادھر بی جے پی کا موقف ہے کہ کانگریس کے دورِ اقتدار میں ہزاروں سکھوں کا قتل عام ہوا تھا، لہٰذا اسے حکومت پر تنقید کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں سب ٹھیک ہے۔ ’مکمل امن ہے، ہم آہنگی کا ماحول ہے‘ اور احتجاج کرنے والے ادیب، مورخین، فلم ساز، اداکار، موسیقار اور دوسرے فن کار ایک قسم کی نظریاتی عدم رواداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

بھارت میں عدم رواداری پر بحث اتر پردیش کے ایک گاؤں میں ایک مسلمان کے قتل کے بعد شروع ہوئی تھی جسے اسی گاؤں کے لوگوں نے گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعظم کی خاموشی اور کچھ وفاقی وزرا کے بیانات کی وجہ سے تلخی بڑھتی چلی گئی۔

اسی بارے میں