ایران میں ’کے ایف سی کی پہلی شاخ‘ کی بندش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مینیجر کا کہنا ہے نے کہ ’حلال کے ایف سی کو ایک غلط فہمی کی وجہ سے بند کیا گیا ہے‘

ایران نے ایک ریستوران کو اس کے کھلنے کے اگلے روز ہی بند کر دیا جب اہلکار اسے امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی کینٹکی فرائیڈ چکن کی ایک شاخ سمجھ بیٹھے۔

لیکن ’حلال کے ایف سی‘ نامی اس ریستوران کے مینیجر نے کہا ہے کہ ان کے ریستوران کا امریکی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پراسیس فوڈ کی مناظر کشی

پولیس نے ریستوران کی بندش پر اپنے فیصلے کے جواز میں کہا کہ ریستوران ایک جھوٹے لائسنس پر چل رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں جس پر قدامت پسندوں کو خدشات ہیں کہ ملک میں مغربی اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔

حلال کے ایف سی کے مینیجر عباس پازوکی نے ’تسنیم نیوز ایجنسی‘ کو بتایا: ’حلال کے ایف سی کو ایک غلط فہمی کی وجہ سے بند کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس ریستوران کو امریکی کے ایف سی کی ایک شاخ سمجھ بیٹھی تھی۔

پازوکی نے کہا ’ہماری برانڈ کا نام حلال کے ایف سی ہے اور اس کا تعلق ترکی سے ہے۔ مسلمان اقوام کی مارکیٹیں ہی اس برانڈ کا ہدف ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ترکی کی برانڈ ’امریکی کے ایف سی کا حریف‘ ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکام نے تہران میں زیادہ معروف کے ایف سی کی ایک شاخ بند کی تھی۔

خبر رساں ادارے آئی ایل این اے کے مطابق اقتصادی امور کے شعبے کے سربراہ علی فضلی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی کے ایف سی کا امریکی کے ایف سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فضلی نے کہا: ’ رہبراعلیٰ کے احکامات کے مطابق ہم فاسٹ فوڈ کے شعبے میں کسی مغربی برانڈز کو یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار قصرہ ناجی کا کہنا ہے کہ سرکاری میڈیا نے چونکہ اس ریستوران کے کھلنے کی خبریں دی تھیں جسے یہ سمجھاگیا کہ ملک میں مغربی اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔

قدامت پسندوں کو ڈر ہے کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین طے پانے والے جوہری منصوبے کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی اثرات داخل ہو سکیں گے۔

اسی بارے میں