سکھوں کے لطیفوں پر پابندی لگنی چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکھوں پر لطیفوں کی کتابیں لکھنے والوں میں خود سکھ بھی شامل ہیں

ایک سکھ (سردار جی) ڈاکٹر کو فون کر کے کہتا ہے: ڈاکٹر صاحب میری بیوی حاملہ ہے اور ابھی اسے درد ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر پوچھتا ہے: کیا یہ اس کا پہلا بچہ ہے؟

جواب آتا ہے: نہیں، میں اس کا شوہر ہوں۔

بہت سے لوگ اسے بے ضرر لطیفہ کہیں گے لیکن اس نے دہلی کی وکیل ہروندر کور کو چراغ پا کر دیا ہے۔

یہ ان 60 لطیفوں میں سے ایک ہے جس کی فہرست دہلی کی سکھ وکیل نے دو کروڑ سکھ برادری پر بنائے جانے والے لطیفوں پر پابندی عائد کرنے کی غرض سے سپریم کورٹ میں پیش کی ہے۔

یہ ایک غیر معمولی اپیل ہے۔ 54 سالہ سکھ وکیل کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر تقریباً پانچ ہزار ویب سائٹیں ہیں جو لطیفے فروخت کرتی ہیں اور ان میں سکھوں کو ’بے وقوف، احمق، گنوار، نالائق، بدھو، انگریزی زبان سے ناواقف اور بے وقوفی اور احمق پن کی علامت‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapliyal
Image caption دہلی کے سکھ گرودواروں کے منتظمین نے پابندی کی کوششوں میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ لطیفے باعزت زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں اس لیے ان لطیفوں کو پھیلانے والی سائٹوں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔‘

اس عجیب اپیل کی سماعت پر راضی ہونے والے جج اس بات پر حیران ہیں کہ آخر وہ اس طرح کی پابندی کیوں چاہتی ہیں۔

ججوں کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ان لطیفوں کو پرمزاح انداز میں لیتے ہیں۔ اس میں بے عزتی نہیں ہوتی، ہاں مزاح کا عنصر ضرور شامل ہے۔

لیکن سپریم کورٹ کے نزدیک اپنے چیمبر میں بیٹھی مسز چودھری کا کہنا ہے کہ وہ ’اس توہین کو یوں ہی برداشت نہیں کرتی رہیں گی۔‘

انھوں نے کہا: ’بہت ہو چکا، ہم سکھ برادری کے لوگ بہت مذاق جھیل چکے ہیں۔ میرے بچے اپنا خاندانی نام ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں مذاق کا بہت نشانہ بننا پڑتا ہے۔ جب میں اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہوں تو لوگ کہتے ہیں میں سکھ ہوں اس لیے پاگل ہوں گی۔‘

’یہ لطیفے سکھوں کے لیے کلنک ہیں۔ انھیں ختم ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ravinder singh robin
Image caption مسز چودھری کا کہنا ہے کہ سکھوں پر بنے لطیفے دو کروڑ سکھ آبادی کی توہین کا باعث ہیں

مسز چودھری نے کہا کہ انھوں نے برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور وہاں قیام کے دوران انھوں کیب ڈرائیونگ کے علاوہ کے ایف سی میں کام کیا ہے اور سموسے بھی بنائے۔ انھوں نے کہا کہ سکھ خاتون ہونے کی وجہ سے انھیں’ مذاق، نسلی امتیاز، نفرت اور جنسی ہراسانی کیے جانے کا بھی سامنا رہا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں سنہ 1984 میں ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گيا جس میں تقریباً دو ہزار افراد مارے گئے۔

انھوں نے کہا: ’میں اپنے ساتھی وکیلوں سے سکھ کا مذاق اڑانے پر لڑ چکی ہوں۔ میں نے ان کو تھپڑ مار دیا ہے جنھوں نے ہماری قیمت پر سکھ پر لطیفے سنائے ہیں۔ میں ایک ایسے نئے شادی شدہ جوڑے کو جانتی ہوں جسے ان کی شادی پر تحفے میں سکھوں کے لطیفوں کی کتاب پیش کی گئی جس سے انھیں صدمہ پہنچا۔‘

اب وہ اپنی اپیل کے لیے حمایت اکٹھا کرنے میں لگی ہوئی ہیں تاکہ سکھوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جانا بند ہو۔ ایک سکھ رکن پارلیمان نے پابندی لگانے کی ان کی اپیل کی حمایت کی ہے۔ پنجاب کے ایک کالج نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور عدالت میں اپیل کی ہے۔ سکھ ان کے چیمبر میں ان سے ملنے آنے لگے ہیں اور دہلی میں سکھوں کے گرودواروں کے منتظمین نے بھی تعاون کی پیشکش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapliyal
Image caption ہروندر چودھری کا کہنا ہے کہ سکھوں کے لطیفوں پر پابندی عائد ہونی چاہیے

ایک سکھ نے لکھا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے حامی ہونے کے باوجود اس پابندی کے حق میں ہیں۔

خیال رہے کہ سکھوں پر لطیفوں کی بہت سی کتابیں خود سکھوں نے لکھی ہیں اور معروف ادیب خوشونت سنگھ کی کتاب بھی ان میں سے ایک ہے۔

سکھوں کے متعلق جن لطیفوں کی فہرست مسز چودھری نے پیش کی ہے ان میں سے چند یہ ہیں:

سکھ: میرا موبائل بل کتنا ہے؟

کال سنٹر: اپنا تازہ بل جاننے کے لیے ایک دو تین ڈائل کریں۔

سکھ: بے وقوف تازہ بل نہیں، میرا موبائل بل۔

٭

سکھ اپنے نوکر سے: پودوں کو پانی دے دو۔

نوکر: بارش تو ہو ہی رہی ہے۔

سکھ: تو کیا ہوا، چھتری لے جاؤ۔

٭

’انٹرویو لینے والا: آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟

سکھ: 13 اکتوبر۔

انٹرویو لینے والا: کس سال؟

سکھ: ہر سال۔

اسی بارے میں